پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری براہِ راست مذاکرات میں ایران کے دنیا بھر میں منجمد اثاثوں کی بحالی کو ایک اہم شرط کے طور پر شامل کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد اس وقت کے امریکی صدر جمی کارٹر نے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت ایرانی اثاثے منجمد کیے تھے، جس کے نتیجے میں امریکی بینکوں میں موجود تقریباً 8 ارب ڈالر مالیت کے سرکاری فنڈز روک دیے گئے۔
وقت کے ساتھ یہ معاملہ مزید پیچیدہ ہوتا گیا اور تیل کی آمدن، مرکزی بینک کے ذخائر اور تجارتی رقوم سمیت ایران کے اربوں ڈالر مختلف ممالک میں منجمد رہے، اس دوران کئی عالمی کمپنیوں نے ایران میں اپنے منصوبے بھی روک دیے، جس سے معاشی نقصان میں اضافہ ہوا۔
1981 کے الجزائر معاہدے کے تحت کچھ رقوم ایران کو واپس کی گئیں، تاہم یہ بحالی محدود اور شرائط کے ساتھ تھی، جس میں تقریباً 3.6 ارب ڈالر کی ادائیگی شامل تھی جبکہ باقی رقوم مختلف قانونی دعوؤں کے باعث روک لی گئیں۔
2015 کے جوہری معاہدے کے بعد ایران کو جزوی ریلیف ملا اور اندازوں کے مطابق 50 سے 60 ارب ڈالر تک کے فنڈز تک محدود رسائی دی گئی، تاہم 2018 میں امریکا کی جانب سے معاہدے سے دستبرداری کے بعد پابندیاں دوبارہ نافذ ہو گئیں اور یہ رقوم دوبارہ منجمد کر دی گئیں۔
بعد ازاں 2023 میں قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے دوران بھی منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ زیر بحث رہا، جس کے تحت جنوبی کوریا میں موجود تیل کی آمدن سے متعلق تقریباً 6 ارب ڈالر کے فنڈز کو مخصوص اکاؤنٹس میں منتقل کرنے کی اجازت دی گئی۔
تازہ سفارتی کوششوں میں ایران اپنے منجمد اثاثوں کی مکمل یا مرحلہ وار بحالی کو کسی بھی ممکنہ معاہدے کا بنیادی حصہ قرار دے رہا ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق یہ معاملہ مستقبل کے مذاکرات کی سمت اور کامیابی پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔