اقوام متحدہ کے سیکر ٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات کا خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ خلوص نیت اور سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لیں تاکہ خطے میں جاری کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔
اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک کے مطابق سیکرٹری جنرل نے ان مذاکرات کو ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ موقع ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ان نے کہا کہ فریقین کو چاہیے کہ وہ تعمیری انداز اپنائیں تاکہ ایک دیرپا اور جامع معاہدے کی راہ ہموار ہو سکے جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی اہم ثابت ہو۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ موجودہ سفارتی کوششیں پاکستان کی ثالثی میں اسلام آباد میں شروع ہو رہی ہیں، جن کا بنیادی مقصد امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد پیدا ہونے والے بحران کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا ہے
یاد رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کی تجویز پر دونوں ممالک کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، جس کے دوران امریکا نے حملے روکنے اور ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔
اسی پیش رفت کے بعد فریقین کے اعلیٰ سطحی وفود اسلام آباد پہنچ چکے ہیں، جہاں پاکستان کی میزبانی میں ان تاریخی مذاکرات کا آغاز متوقع ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق ان مذاکرات کو خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک اہم موقع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور عالمی برادری بھی ان کوششوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔