جے ڈی وینس نے کن ممالک کی فضائی حدود استعمال نہیں کی؟ اسٹرٹیجک روٹ کے باعث 3 گھنٹے کی تاخیر

جے ڈی وینس نے کن ممالک کی فضائی حدود استعمال نہیں کی؟ اسٹرٹیجک روٹ کے باعث 3 گھنٹے کی تاخیر

ایران کے ساتھ اہم جنگ بندی مذاکرات میں شرکت کے لیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا خصوصی طیارہ مقررہ وقت سے ساڑھے 3 گھنٹے کی تاخیر کے بعد اسلام آباد پہنچ گیا ہے۔

ایوی ایشن ذرائع کے مطابق امریکی وفد کو آج صبح 7 بجے اسلام آباد پہنچنا تھا، تاہم پرواز کی آمد میں تاخیر کے باعث طیارہ صبح 10:33 بجے نور خان ایئر بیس پر لینڈ ہوا۔

میری لینڈ کے کیمپ اسپرنگ بیس سے روانہ ہونے والے ’سی 32 اے‘ طیارے نے مجموعی طور پر 14 گھنٹے 20 منٹ کا سفر طے کیا۔ اس طویل پرواز کے دوران طیارے نے فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ڈھائی گھنٹے کا اسٹاپ اوور بھی کیا۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی وفد دو طیاروں میں اسلام آباد پہنچا، جے ڈی وینس کا الگ طیارے میں سفر

ماہرینِ ایوی ایشن نے نوٹ کیا ہے کہ امریکی نائب صدر کے طیارے نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر روایتی روٹ استعمال کرنے کے بجائے ایک طویل اور مخصوص راستہ اختیار کیا۔ طیارے نے مشرقِ وسطٰی کے ممالک اور افغانستان کی فضائی حدود کو مکمل طور پر نظر انداز کیا اور جارجیا، آذربائیجان، ترکمانستان (سمرقند) سے ہوتے ہوئے تاجکستان کے راستے پاکستان کا رخ کیا۔

پاکستانی وقت کے مطابق صبح 10 بجے یہ طیارہ چترال کے قریب سے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوا، جہاں پاک فضائیہ کی جانب سے امریکی طیارے کا بھرپور اور پرتپاک استقبال کیا گیا۔ سیکیورٹی پروٹوکولز کے تحت طیارے کو نور خان ایئر بیس تک بحفاظت پہنچایا گیا جہاں حکومتی اور عسکری حکام نے نائب صدر کا استقبال کیا۔

11 اپریل 2026 کی اس آمد کے ساتھ ہی اسلام آباد میں سہ فریقی مذاکرات کی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ امریکی نائب صدر کی تاخیر سے آمد کے باوجود مذاکراتی شیڈول میں معمولی ردو بدل کے ساتھ اہم ملاقاتیں آج ہی متوقع ہیں۔

امریکی وی آئی پی پروازوں کے لیے روٹ کا انتخاب انتہائی حساس معاملہ ہوتا ہے، خاص طور پر جب خطہ جنگ کی لپیٹ میں ہو۔ مشرقِ وسطٰی اور افغانستان کی فضائی حدود کو نظر انداز کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکی حکام کسی بھی ممکنہ خطرے یا اشتعال انگیزی سے بچنا چاہتے تھے۔

وسط ایشیائی ریاستوں کا ‘محفوظ روٹ’ اختیار کرنا ثابت کرتا ہے کہ ان مذاکرات کی اہمیت امریکہ کے لیے کتنی زیادہ ہے کہ وہ طویل سفر اور تاخیر کو سکیورٹی پر ترجیح دے رہا ہے۔ پاک فضائیہ کا استقبالیہ پروٹوکول دونوں ممالک کے درمیان بہتر ہوتے ہوئے عسکری و سفارتی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔

Related Articles