طبی تعلیم کے معیار پر سمجھوتہ یا نجی کالجوں کی سہولت کاری؟ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کا بڑا فیصلہ

طبی تعلیم کے معیار پر سمجھوتہ یا نجی کالجوں کی سہولت کاری؟ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کا بڑا فیصلہ

پاکستان میں طبی تعلیم کے شعبے میں اس وقت ایک نیا بحران پیدا ہو نے کا خدشہ سامنے آ یا ہے جب پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) نے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کے داخلہ ٹیسٹ (MDCAT) کے پاسنگ مارکس کم کرنے کا اعلان کیا۔

اس فیصلے کو پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (PMA) اور طبی ماہرین نے شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے طبی پیشے کے وقار کے خلاف قرار دیا ہے۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے اس نوٹیفکیشن کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق اس فیصلے کے پیچھے درج ذیل وجوہات اور خدشات کارفرما ہیں جن میں سر فہرست ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کے لیے پاسنگ نمبروں کو کم کر کے 52 فیصد تک لانا تعلیمی معیار کو گرانے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔

دوسری جانب پی ایم اے کا موقف ہے کہ نجی میڈیکل کالجوں میں نشستیں امیدواروں کی کمی کی وجہ سے نہیں، بلکہ ان کی انتہائی مہنگی فیسوں کی وجہ سے خالی رہتی ہیں۔ کونسل نے فیسیں کم کرنے کے بجائے میرٹ کو کم کر کے ان اداروں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی ہے۔

اس حوالے سے سیکرٹری جنرل PMA ڈاکٹر عبدالغفور شورو کا کہنا ہے کہ یہ اقدام طبی تعلیم کے عالمی معیار کو متاثر کرے گا اور مستقبل کے ڈاکٹروں کی پیشہ ورانہ مہارت پر سوالات اٹھائے گا۔

طبی ماہرین نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے “تعلیم کی فروخت” سے تشبیہ دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ان قابل طلبہ کے ساتھ زیادتی ہے جنہوں نے ماضی میں سخت میرٹ کی وجہ سے داخلہ حاصل نہیں کیا تھا۔
حکومت اور ریگولیٹری اداروں کو ڈاکٹروں کی تعداد بڑھانے کے بجائے ان کی قابلیت اور تربیت کے معیار پر توجہ دینی چاہیے۔

مزید پڑھیں: میڈیکل و ڈینٹل کالجز میں داخلے کےلیے بڑی خوشخبری، حکومت کی جانب سے موثر اصلاحات کا اعلان

ترجمان پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ”طبی تعلیم کا مقصد انسانی جانوں کو محفوظ بنانا ہے، نجی کالجوں کے بینک بیلنس بھرنا نہیں۔ کونسل کو اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہیے۔” اوراگر یہ فیصلہ برقرار رہتا ہے تو خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پاکستانی میڈیکل ڈگریوں کی عالمی سطح پر ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔

سوشل میڈیا پر بھی طلبہ اور والدین کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے، جہاں مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ داخلوں کا معیار گرانے کے بجائے نجی کالجوں کی فیسوں کو عام آدمی کی پہنچ میں لایا جائے۔

editor

Related Articles