آسٹریلیا نے اپنی دفاعی قیادت میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ملک کی فوج کی قیادت پہلی بار ایک خاتون کے سپرد کی جائے گی، یہ پیش رفت آسٹریلین آرمی کی 125 سالہ تاریخ میں ایک اہم سنگ میل قرار دی جا رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے پیر کے روز جاری بیان میں کہا گیا کہ لیفٹیننٹ جنرل سوزن کوئل جو اس وقت جوائنٹ کیپیبلیٹیز کی سربراہ ہیں، جولائی میں آرمی چیف کا عہدہ سنبھالیں گی، وہ موجودہ آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل سائمن اسٹورٹ کی جگہ لیں گی، جنہوں نے جولائی 2022 میں یہ ذمہ داری سنبھالی تھی۔
سوزن کوئل کا فوجی کیریئر تقریباً چار دہائیوں پر محیط ہے، جس دوران انہوں نے متعدد اہم کمانڈ عہدوں پر خدمات انجام دیں، ان کی خدمات میں افغانستان اور مشرق وسطیٰ میں فوجی کارروائیوں کے دوران اہم ذمہ داریاں بھی شامل رہی ہیں۔
ان کی تقرری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آسٹریلوی فوج اپنی صفوں میں خواتین افسران کی تعداد بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے اور اسے جنسی ہراسانی اور امتیازی سلوک سے متعلق الزامات کا بھی سامنا ہے۔
آسٹریلیا کے وزیر اعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ جولائی سے آسٹریلین آرمی کی 125 سالہ تاریخ میں پہلی بار ایک خاتون آرمی چیف تعینات ہوں گی، انہوں نے اس پیش رفت کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔
دفاعی وزیر رچرڈ مارلس نے اس تقرری کو ایک “انتہائی تاریخی لمحہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ سوزن نے خود کہا، “آپ وہ نہیں بن سکتے جو آپ دیکھ نہیں سکتے” انہوں نے مزید کہا کہ یہ کامیابی نہ صرف موجودہ خواتین فوجیوں کے لیے بلکہ مستقبل میں فوج میں شامل ہونے کی خواہش رکھنے والی خواتین کے لیے بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
آسٹریلوی فوج اس وقت ایک بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے، جس کے تحت اسے جدید طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں، ڈرونز اور دیگر جدید جنگی آلات سے لیس کیا جا رہا ہے۔
55 سالہ سوزن کوئل نے اپنی تقرری پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سائبر جنگ سمیت مختلف شعبوں میں ان کا وسیع تجربہ انہیں اس اہم ذمہ داری کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہےاور وہ اس اعتماد پر پورا اترنے کے لیے پرعزم ہیں۔