پی ٹی آئی کارکنان کے وزیراعلی سہیل آفریدی،مینا خان آفریدی اورآفتاب عالم پرکرپشن کے الزامات

پی ٹی آئی کارکنان کے وزیراعلی سہیل آفریدی،مینا خان آفریدی اورآفتاب عالم پرکرپشن کے الزامات

تحریکِ انصاف کے اندر ایک نئی ہلچل نے جنم لیا ہے جہاں پارٹی کارکنوں نے اپنی ہی قیادت کے خلاف بدعنوانی کے سنگین الزامات عائد کر دیے ہیں گڈ گورننس کمیٹی کے پی کے رکن قاضی انور کو موصول ہونے والی تحریری شکایات کے مطابق سہیل آفریدی، مینا خان اور آفتاب عالم پر اختیارات کے ناجائز استعمال اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں۔

یہ شکایات باقاعدہ طور پر پارٹی کی گڈ گورننس کمیٹی کے رکن قاضی محمد انور کو ارسال کی گئی ہیں، جنہوں نے ایک تحریری بیان میں ان الزامات کی وصولی کی تصدیق کی۔قاضی انور کو مختلف ذرائع سے ایسی شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں ٹھیکوں کی منظوری میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی اور تقرری و تبادلوں میں مبینہ طور پر قریبی افراد کو نوازنے جیسے معاملات شامل ہیں۔

کمیٹی ذرائع کے مطابق اس معاملے پر شاہ فرمان سے بھی مشاورت کی گئی، جنہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی کارروائی سے قبل ٹھوس شواہد کا ہونا ناگزیر ہے،اسی تناظر میں مصدق عباسی کو ہدایت دی گئی کہ وہ وزیر اعلیٰ سے اس حوالے سے رابطہ کریں، تاہم ملاقات کے بعد کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔

یہ بھی پڑھیں :خیبرپختونخوا میں کرپشن ہو رہی ہے، پی ٹی آئی رہنما فضل الٰہی کے تہلکہ خیز انکشافات

دوسری جانب الزامات سامنے آنے کے بعد وزیر بلدیات مینا خان نے سخت ردعمل دیتے ہوئے قاضی انور پر تنقید کی اور انہیں سستی شہرت حاصل کرنے کا خواہاں قرار دیا، ان کا کہنا تھا کہ اگر ان پر لگائے گئے الزامات میں کوئی صداقت ہے تو ٹھوس ثبوت پیش کیے جائیں۔

ذرائع کے مطابق ماضی میں بھی اسی کمیٹی نے پارٹی کے ایک سابق وزیر کے خلاف کارروائی کی سفارش کی تھی، جس کے نتیجے میں انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا، تاہم موجودہ حکومت کے قیام کے بعد گڈ گورننس کمیٹی کی سرگرمیاں محدود ہو گئی تھیں، جو اب ایک بار پھر متحرک ہوتی دکھائی دے رہی ہیں،قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ عمران خان کی ہدایت پر قائم اس کمیٹی میں شاہ فرمان، قاضی محمد انور اور مصدق عباسی شامل ہیں، اور کمیٹی اپنی حتمی رپورٹ براہِ راست قیادت کو پیش کرتی ہے۔

فی الحال کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ تمام شکایت کنندگان اپنی درخواستیں شواہد کے ساتھ جمع کروائیں، ان کی شناخت مکمل طور پر خفیہ رکھی جائے گی،ابتدائی جانچ کے بعد اگر الزامات درست پائے گئے تو متعلقہ وزراء سے جواب طلب کیا جائے گا، جبکہ غیر تسلی بخش وضاحت کی صورت میں باضابطہ تحقیقات کا آغاز کیا جائے گا۔

ادھر دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان ارسلان خان ناظم نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں عمران خان کے نام پر ووٹ لینے والوں نے کرپشن کا بازار گرم کر رکھا ہے۔پی ٹی آئی کے اپنے حلقوں سے سامنے آنے والے انکشافات نے حکمرانوں کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں :خیبرپختونخوا کی قانون ساز اسمبلی میں قانون کی پامالی ؟

ایک طرف پی ٹی آئی کی اپنی احتساب کمیٹی کے سربراہ قاضی انور ایڈوکیٹ کی جانب سے وزیربلدیات مینا خان آفریدی پر سنگین کرپشن الزامات سامنے آ رہے ہیں،جبکہ دوسری جانب ایم این اے شاہد خٹک کو بینک آف خیبر کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل کرنے کیلئے قوانین میں تبدیلی کی کوششیں اس ادارے کو تباہی کے دہانے پر دھکیلنے کے مترادف ہے۔

صوبائی ترجمان ارسلان خان ناظم کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اور عمران خان کے چہیتے صوبے کے وسائل کو بے دردی سے لوٹنے میں مصروف ہیں،بدقسمتی سے جاری کرپشن اور غیر قانونی اقدامات کے باوجود نیب اور دیگر احتسابی اداروں کی مجرمانہ خاموشی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔

کیا احتساب صرف مخصوص افراد کیلئے ہے؟ کیا مشکلات میں گرے صوبے کے خزانے کو یہ مخصوص ٹولہ اسی طرح لوٹتا رہے گا؟ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال بھی دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے، جس کے باعث عوام میں خوف اور بے چینی بڑھ رہی ہے،اس کے برعکس حکمران جماعت کے ذمہ داران عوامی مسائل کے حل کے بجائے اقتدار کو ذاتی مفادات کیلئے استعمال کرنے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں، جو نہایت افسوسناک ہے۔

ترجمان اے این پی کا کہنا تھا کہ عوام کو یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ یہی عناصر تبدیلی اور شفاف احتساب کے نعروں کے ساتھ اقتدار میں آئے تھے، مگر 13 سال سے ان کی کارکردگی بدترین کرپشن، اقربا پروری اور اداروں کی تباہی کی شکل میں سامنے آ رہی ہے،خیبرپختونخوا کے عوام کے ساتھ یہ ناانصافی مزید برداشت نہیں کی جائے گی۔ اب وقت آگیا ہے کہ ان عناصر کو بے نقاب کیا جائے اور صوبے کے وسائل کو بچایا جائے ۔

editor

Related Articles