کراچی اور ملک کے بعض دیگر علاقوں میں میٹرک کے امتحانات مذاق بن کر رہ گئے ہیں کراچی میں دسویں جماعت کا پرچہ آوٹ ہوگیا ہے جبکہ کوہاٹ میں امتحانی سینٹر پر طلبا نے ہلہ بول دیا ، پیپر چھین لیے عملے کو زدوکوب کیا گیا۔حالیہ واقعات کے بعد شفاف امتحانات کے دعوے ایک بار پھر سوالات کی زد میں آ گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دسویں جماعت کا انگریزی کا پرچہ امتحان سے قبل ہی سوشل میڈیا پر لیک ہو کر گردش کرتا رہا بہت سے طالب علموں نے اسے نوٹ کر کے امتحان کے دوران بھر پور فائدہ اٹھایا۔اس سے قبل بھی کراچی اور سندھ میں میٹرک کے پرچے آوٹ ہونے کے واقعات رونما ہوچکے ہیں جس سے امتحانی نظام کی ساکھ متاثر ہورہی ہے۔
اسی طرح نویں جماعت کا فزکس کا پرچہ بھی امتحان سے پہلے وائرل ہو چکا ہے جبکہ ایک روز قبل حیاتیات کا پرچہ بھی امتحان شروع ہونے سے تقریباً آدھا گھنٹہ پہلے آؤٹ ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
کراچی میں میٹرک کے امتحانات کا آغاز 10 اپریل سے ہوا تھا، تاہم مسلسل پرچہ لیک ہونے کے واقعات نے انتظامی کارکردگی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اسی طرح کوہاٹ میں میٹرک امتحان کے دوران امتحانی سنٹر میں طالب علم نقل کر رہے تھے جنہیں امتحانی عملے کی طرف سے روکا گیا جس پر طالبعلم تعیش میں آگے اور عملے پر ہلہ بول دیا بعض طالب علم پرچہ چھین کر فرار بھی ہوگئے ۔
دوسری جانب بورڈ حکام کا کہنا ہے کہ امتحانی مراکز کے اطراف دفعہ 144 نافذ ہے اور صورتحال کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔