وفاقی بجٹ 2026-27 پیش ہونے کے بعد جہاں عوام نئی معاشی پالیسیوں کے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں وہیں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے روز بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس سے قیمتی دھاتوں کی خریداری مزید مہنگی ہو گئی ہے۔
عالمی بلین مارکیٹ میں سونے کی قیمت 43.70 ڈالر اضافے کے بعد 4219 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی جس کے اثرات فوری طور پر پاکستان کی مقامی مارکیٹ میں بھی دیکھنے میں آئے۔
آل پاکستان صرافہ مارکیٹ کے مطابق مقامی سطح پر فی تولہ سونے کی قیمت میں مزید 4370 روپے کا اضافہ ہوا جس کے بعد فی تولہ سونا 4 لاکھ 44 ہزار 336 روپے کی نئی بلند سطح پر پہنچ گیا۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت 3933 روپے اضافے سے 3 لاکھ 79 ہزار 880 روپے ہو گئی۔
یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل بھی سونے کی قیمت میں 7250 روپے فی تولہ کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ یوں صرف دو روز میں سونے کی فی تولہ قیمت مجموعی طور پر 11 ہزار 620 روپے بڑھ چکی ہے۔
دوسری جانب چاندی کی قیمت میں بھی تیزی کا رجحان برقرار رہا اور فی تولہ چاندی 200 روپے اضافے کے بعد 7279 روپے تک جا پہنچی۔
وفاقی بجٹ کے بعد سرمایہ کاروں کی جانب سے محفوظ سرمایہ کاری کی طرف رجحان بڑھنے اور عالمی سطح پر معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتیں بلند رہیں تو مقامی مارکیٹ میں بھی مزید اضافے کا امکان موجود ہے۔
صرافہ بازار کے تاجروں کے مطابق بجٹ کے بعد ڈالر ٹیکس پالیسی اور عالمی معاشی صورتحال پر نظر رکھنے والے سرمایہ کار دوبارہ سونے کی مارکیٹ کا رخ کر رہے ہیں، جس کے باعث قیمتوں پر مسلسل دباؤ بڑھ رہا ہے