پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجہ نے عہدوں سے متعلق تنقید پر علیمہ خان کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق سلمان اکرم راجہ نے واضح کیا کہ انہیں کسی عہدے کی خواہش نہیں اور وہ عہدوں پر “لعنت بھیجتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا، تاہم عمران خان کی ہدایت پر علیمہ خان سمیت تینوں بہنیں ان کے دفتر آئیں اور استعفیٰ واپس لینے کی درخواست کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ عہدہ ان پر مسلط کیا گیا ہے اور وہ اس پر برقرار رہنے کے خواہشمند نہیں ان کا کہنا تھا انہوں نے اپنا مؤقف علیمہ خان تک پہنچا دیا ہے اور چاہتے ہیں کہ آئندہ جب بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہو تو ان کا استعفیٰ پیش کیا جائے۔
سلمان اکرم راجہ نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی سہولت کاری کا تاثر مکمل طور پر غلط ہے، انہوں نے 9 اپریل کے جلسے کی منسوخی کو بھی عمران خان کا ذاتی اور درست فیصلہ قرار دیا۔
انہوں نے علیمہ خان کی سیاسی سمجھ بوجھ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی معلومات محدود ہیں، ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے انہیں ہدایت دی تھی کہ سیاسی فیصلوں میں علیمہ خان کے تابع نہ ہوں۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ پارٹی کو منظم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور جذباتی اقدامات کے بجائے مؤثر حکمت عملی اپنانی ہوگی، انہوں نے خبردار کیا کہ چند ہزار افراد کے ساتھ کسی شہر کی طرف مارچ کرنے سے سوائے جانی نقصان کے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئندہ کی سیاسی حکمت عملی پر کام جاری ہے اور پارٹی کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف رہنماؤں کو دوبارہ ساتھ ملانے کی کوشش کی جائے گی، جن میں راجہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی شامل ہیں۔