واٹس ایپ پر یہ پیغام آپ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتاہے

واٹس ایپ پر یہ پیغام آپ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتاہے

دنیا میں ایران سے جڑی کشیدگی اور توانائی بحران کے تناظر میں جہاں مختلف ممالک میں احتیاطی اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے، وہیں اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سائبر جرائم پیشہ عناصر بھی سرگرم ہو گئے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ “لاک ڈاؤن نوٹس” کے نام پر گردش کرنے والی فائلیں دراصل خطرناک وائرس پر مشتمل ہو سکتی ہیں، جو صارفین کے لیے سنگین مالی نقصان کا باعث بن سکتی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق حیدرآباد میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، خصوصاً واٹس ایپ پر “وار لاک ڈاؤن نوٹس” کے نام سے ایک مشکوک فائل تیزی سے پھیل رہی ہے، بظاہر یہ ایک عام پیغام یا دستاویز معلوم ہوتی ہے، لیکن درحقیقت اس کے اندر نقصان دہ کوڈ چھپا ہوتا ہے۔

سائبر ماہرین کے مطابق یہ ایک منظم “سوشل انجینئرنگ” حکمت عملی ہے، جس کے ذریعے ہیکرز صارفین کو دھوکہ دے کر ان کے موبائل فون اور ذاتی معلومات تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔خاص طور پر پی ڈی ایف فائل میں خفیہ کوڈ شامل کیا جا سکتا ہے، جو فائل کھولتے ہی ڈیوائس کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر نظام کو متاثر کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :ہیکرز کی جانب سے مختلف براؤزر ایکسٹینشنز پر سائبر حملوں کا انکشاف

مزید خطرناک پہلو یہ ہے کہ بعض صورتوں میں اس کے ساتھ ایک اے پی کے فائل بھی بھیجی جاتی ہے، جو اگر انسٹال ہو جائے تو ہیکرز کو صارف کے فون پر مکمل کنٹرول حاصل ہو سکتا ہے،اس کے ذریعے کیمرہ اور مائیک تک رسائی، پیغامات کی نگرانی، حتیٰ کہ بینک سے متعلق خفیہ کوڈز بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں، جس سے مالی نقصان کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی فائلوں کے ذریعے صارف کا مقام اور دیگر حساس معلومات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں، جبکہ “کی لاگنگ” کے ذریعے پاس ورڈ اور پن کوڈ تک ریکارڈ کیے جا سکتے ہیں۔عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی نامعلوم نمبر سے موصول ہونے والی فائل، خصوصاً پی ڈی ایف یا اے پی کے، ہرگز نہ کھولیں اور فوراً حذف کر دیں۔

موبائل کی سیٹنگز میں جا کر غیر معروف ذرائع سے ایپس انسٹال کرنے کا اختیار بند رکھا جائے اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر سیکیورٹی اسکین کیا جائے،ماہرین نے زور دیا ہے کہ موجودہ حالات میں محتاط رہنا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ ایک معمولی سی لاپرواہی بڑے مالی اور ذاتی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *