کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے شرپسند رکن حمید کشمیری اور ساجد اعظم کی شرانگیز آڈیو منظر عام پر آگئی

کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے شرپسند رکن حمید کشمیری اور ساجد اعظم کی شرانگیز آڈیو منظر عام پر آگئی

کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے منسوب ایک نئی آڈیو سامنے آنے کے بعد تنظیم کے بارے میں کیے جانے والے ’’پرامن سرگرمیوں‘‘ کے دعوؤں پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ آڈیو میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مبینہ رہنما ساجد اعظم اور حمید کشمیری کے درمیان گفتگو سنی جا سکتی ہے، جس میں راولاکوٹ کی جانب پیش قدمی، جلوسوں کی نقل و حرکت اور ممکنہ داخلے کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

آڈیو کے بعض حصوں میں یہ دعویٰ بھی سامنے آتا ہے کہ بڑی تعداد میں افراد موجود ہیں، جبکہ مبینہ طور پر مسلح جتھوں کی تیاری کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ گفتگو میں راولاکوٹ پہنچ کر مختلف مطالبات منوانے اور اپنے ساتھیوں کی رہائی سے متعلق بات بھی سنی جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: راولاکوٹ کے اطراف میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا پڑاؤ، گھروں میں کھانے پینے کے سامان کی قلت، چور اُچکوں نے دکانیں لوٹنا شروع کردیں

مزید گفتگو میں سخت اور اشتعال انگیز انداز اختیار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مزاحمت اور ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ آڈیو کے بعض حصوں میں داخلی اختلافات اور قیادت پر ناراضی کا اظہار بھی سامنے آیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی مبینہ آڈیو لیک سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ تنظیم کے پرامن ہونے کے دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسلح افراد کی مبالغہ آمیز تعداد کے دعوے اور جارحانہ گفتگو تنظیم کے بیانیے پر سوالیہ نشان ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کی گفتگو خطے میں عدم استحکام اور کشیدگی کو بڑھا سکتی ہے، جس کا فائدہ بیرونی بیانیوں کو پہنچ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت آزاد کشمیر کا بڑا اقدام، کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ارکان اور سہولتکاروں کے اثاثے منجمند کرنے کا فیصلہ

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے منسوب بعض افراد کی آڈیو لیک منظر عام پر آ چکی ہے، جس میں راولاکوٹ میں داخلے اور ممکنہ سیاسی سرگرمیوں سے متعلق گفتگو سامنے آئی تھی۔ نئی مبینہ لیک نے اس معاملے کو ایک بار پھر بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔

ادھر آڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں، جبکہ سیکیورٹی اور سیاسی حلقوں میں بھی صورتحال کو قریب سے دیکھا جا رہا ہے۔

آڈیو لیک نے کالعدم ایکشن کمیٹی کا اصل چہرہ بے نقاب کردیا، طلال چوہدری

طلال چوہدری نے کہا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے ممبران کی آڈیو لیک پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال میں 500 رائفل مین کی موجودگی اور پرامن احتجاج کے دعوے ایک دوسرے سے مکمل طور پر متضاد ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ یہ معاملات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کا اصل کردار عوام کے سامنے آ چکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ریاست مخالف کسی بھی سازش کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور قانون کے مطابق مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ تحقیقات کے بعد ذمہ دار عناصر کے خلاف مناسب اور قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے گا۔

Related Articles