فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک پُرعزم شخصیت ہیں جو آسانی سے ہار نہیں مانتے، وہ تہران میں کشیدگی کے نقصانات پر بات کریں گے،لیفٹیننٹ جنرل (ر) ایم سعید

فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک پُرعزم شخصیت ہیں جو آسانی سے ہار نہیں مانتے، وہ تہران میں کشیدگی کے نقصانات پر بات کریں گے،لیفٹیننٹ جنرل (ر) ایم سعید

اسلام آباد پراسیس اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ دورۂ ایران کے تناظر میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) ایم سعید نے اہم نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی سطح پر پیچیدہ تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات ہی مؤثر راستہ ثابت ہوتے رہے ہیں، جس کی واضح مثال ویتنام جنگ کے اختتام پر امریکہ اور ویتنام کے درمیان 1968 میں پیرس میں شروع ہونے والے مذاکرات ہیں جو بالآخر 1973 میں نتیجہ خیز ثابت ہوئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے افغان طالبان کے ساتھ بھی 2012 میں رابطے شروع کیے، جس کے بعد 2014 میں دوحہ میں پہلی باضابطہ ملاقات ہوئی اور بالآخر 2021 میں ایک معاہدہ طے پایا۔ اسی طرح پاکستان نے ایک ایسے تنازع میں 15 روزہ جنگ بندی کرانے میں کردار ادا کیا جس کے اثرات نہ صرف ممالک بلکہ دنیا بھر کے گھروں تک محسوس کیے جا رہے تھے۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) ایم سعید نے کہا کہ محض 72 گھنٹوں کے اندر وہ فریقین جو نصف صدی سے زائد عرصے سے ایک دوسرے کے خلاف تھے مذاکرات کی میز پر آ بیٹھے جو ایک بڑی کامیابی ہے اور اس پر پورے پاکستان کو فخر ہے۔

انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ایک ایسا منفرد سفارتی فائدہ حاصل ہے جس پر زیادہ بات نہیں کی گئی۔   2016 میں ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس بننے کے بعد  پھر آئی ایس آئی کی سربراہی اور اب چار سال سے آرمی چیف کے عہدے پر فائز رہنے کے دوران انہوں نے خطے کے اہم ممالک جیسے سعودی عرب، قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات، کویت اور ایران میں سیاسی، سفارتی، عسکری اور انٹیلی جنس سطح پر وسیع روابط استوار کیے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عسکری سفارتکاری اس خطے میں ایک منفرد حیثیت رکھتی ہے کیونکہ یہاں کی عسکری قیادت روایتی طور پر مختلف ممالک کے اہم اسٹیک ہولڈرز سے براہ راست رابطے میں رہی ہے۔ عالمی سطح پر بھی صدر ٹرمپ کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے قربت سب کے علم میں ہے جس کے باعث وہ اس تنازع کے اہم کرداروں کے لیے ایک بااثر شخصیت بن چکے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) ایم سعید نے کہا کہ اس وقت سب سے مثبت پہلو یہ ہے کہ جنگ بندی برقرار ہے اور امریکی پابندیوں کے باوجود امریکہ اور ایران نے کسی قسم کی عسکری کارروائی سے گریز کیا ہے کیوں کہ اس سے کشیدگی بڑھنے کا خدشہ تھا۔

 یہ بھی پڑھیں :پاکستانی کی سفارتی پالیسی کی عالمی سطح پر دھوم، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا خصوصی تذکرہ، دوراندیشی پر بھرپور اعتماد

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والی پہلی ملاقات کے دوران امریکی قیادت نے تقریباً 80 فیصد شرائط پر اتفاق کا عندیہ دیا  جبکہ ایرانی فریق نے بھی بیشتر معاملات پر اتفاق کیا تاہم آبنائے ہرمز کی حیثیت 60 فیصد سے زائد افزودہ یورینیم کے مستقبل اس کے خاتمے اور ایرانی جوہری پروگرام جیسے نکات پر اختلافات برقرار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک پُرعزم شخصیت ہیں جو آسانی سے ہار نہیں مانتے۔ وہ تہران میں عسکری صورتحال ممکنہ نتائج اور دوبارہ کشیدگی کے نقصانات پر بات کریں گے، ساتھ ہی یہ بھی واضح کریں گے کہ کشیدگی سے گریز کی صورت میں کیا پیشکش کی جا سکتی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) ایم سعید نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر وائٹ ہاؤس کا ایک اہم پیغام بھی ساتھ لے کر گئے ہیں اور ممکن ہے کہ امریکہ کی نظرثانی شدہ مذاکراتی پوزیشن بھی انہیں فراہم کی گئی ہو۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) ایم سعید نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران میں نہایت سنجیدگی اور جذبے کے ساتھ بات چیت کریں گے اور اس دورے کے حوالے سے مثبت توقعات وابستہ ہیں۔ ایران اور امریکہ دونوں کی جانب سے آنے والے بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسلام آباد میں ایک اور اعلیٰ سطحی ملاقات کا امکان بڑھ رہا ہے، اور اگر اسلام آباد میں نہ بھی ہو تو کسی اور مقام پر اسی سطح کی بات چیت کی مضبوط امید موجود ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *