پی ٹی آئی کا مردان جلسہ یا عوام کے لیے عذاب؟ خاردار تاریں، بند سڑکیں اور سیل شدہ کاروباری مراکز نے شہریوں کو رُلا دیا

پی ٹی آئی کا مردان جلسہ یا عوام کے لیے عذاب؟ خاردار تاریں، بند سڑکیں اور سیل شدہ کاروباری مراکز نے شہریوں کو رُلا دیا

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے مردان میں منعقدہ جلسے نے جہاں سیاسی ماحول گرم کر دیا ہے، وہیں انتظامی اقدامات اور سرکاری وسائل کے استعمال نے عوامی سطح پر شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔

مردان شہر کے گرد و نواح کی تمام اہم سڑکیں بند ہونے اور سینٹر میڈیا روڈ پر خاردار تاریں بچھائے جانے کی وجہ سے شہریوں کی روزمرہ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے، جبکہ جلسہ گاہ کے اطراف میں واقع کاروباری مراکز کو سیل کیے جانے سے تاجر برادری کو کروڑوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مردان پی ٹی آئی کا ایک بار پھر ’فلاپ پاورشو‘، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے لیے بڑا چیلنج، شہری باربار احتجاج سے تنگ

صوبائی دارالحکومت پشاور کے شہریوں نے بھی پی ٹی آئی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ان جلسوں اور احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے شہر کی سڑکیں بند رہتی ہیں، جس سے نظامِ زندگی درہم برہم ہو چکا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کے دور میں صحت، تعلیم اور امن و امان کے شعبوں پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی اور بیروزگاری انتہا کو پہنچ چکی ہے، ایسے میں ان جلسوں کا کوئی اخلاقی جواز نہیں بنتا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے بیانات میں واضح تضاد بھی سامنے آیا ہے۔ ایک طرف وہ صرف 2 گاڑیوں کا پروٹوکول لینے کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن مردان جلسے کے لیے ان کے قافلے میں سرکاری گاڑیوں کا بے دریغ استعمال دیکھا گیا۔

عینی شاہدین کے مطابق وزیراعلیٰ کے قافلے میں ریسکیو 1122 کی ایمبولینسز بھی شامل تھیں، جسے عوامی حلقوں نے سرکاری وسائل کا مجرمانہ استعمال قرار دیا ہے۔ پشاور کے رہائشیوں نے اپیل کی ہے کہ حکومت سیاسی مہم جوئی کے بجائے عوامی مسائل کے حل اور صوبے کی تعمیر و ترقی پر توجہ دے، کیونکہ موجودہ حالات میں یہ احتجاج محض وقت کا ضیاع ثابت ہو رہے ہیں۔

واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ایک طویل عرصے سے برسرِ اقتدار ہے، لیکن حالیہ مہینوں میں صوبے کو شدید مالی بحران اور انتظامی مسائل کا سامنا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اقتدار سنبھالتے ہی سادگی مہم کا اعلان کیا تھا، تاہم حالیہ سیاسی جلسوں میں سرکاری مشینری کے استعمال نے ان کے ان دعوؤں پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔

مردان، جو کہ سیاسی لحاظ سے ایک اہم مرکز ہے، وہاں اس طرح کی ناکہ بندی اور کاروباری مراکز کی بندش نے مقامی آبادی میں حکومت کے خلاف شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔

19 اپریل 2026 کو ہونے والی یہ سیاسی سرگرمی ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب صوبے کو دہشتگردی کی نئی لہر اور معاشی عدم استحکام کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے عوامی ہمدردیاں حکومت کے بجائے مسائل کے حل کی طرف جھک رہی ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *