خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اور سفارتی رابطوں کے تناظر میں ایک اہم بیان سامنے آیا ہے جس میں امیر سعید ایروانی نے کہا ہے کہ اگر امریکا اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرتا ہے تو ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور اسلام آباد میں منعقد کیا جا سکتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ چند ہفتوں سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور جنگ بندی و مذاکرات کے حوالے سے صورتحال غیر یقینی بنی ہوئی ہے۔
ایرانی سفیر کے مطابق تہران کو ایسے اشارے ملے ہیں کہ امریکا اپنی ناکہ بندی ختم کرنے پر آمادہ ہو سکتا ہے تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کے دوبارہ آغاز سے پہلے اس شرط کا پورا ہونا ضروری ہے۔
امیر سعید ایروانی نے کہا کہ اگر امریکا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرتا ہے تو مذاکرات کا اگلا دور اسلام آباد میں ممکن ہے، جو خطے میں سفارتی سرگرمیوں کے لیے ایک اہم پیش رفت ہو گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے پر یقین رکھتا ہے، تاہم اگر امریکا سیاسی حل چاہتا ہے تو ایران اس کے لیے تیار ہے، اور اگر جنگ کی راہ اپنائی جاتی ہے تو تہران بھی اس کے لیے تیار ہے۔
اس سے قبل ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی کہا تھا کہ مذاکرات میں شرکت کے لیے وفد بھیجنے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
انہوں نے امریکا پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے سمندری حدود میں ایرانی جہازوں کے خلاف اقدامات کیے ہیں جنہیں ایران بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور ریاستی دباؤ قرار دیتا ہے۔