ایران کے ساتھ کس طرح کا معاہدہ ہونے جا رہا ہے؟، وائٹ ہاؤس کا بڑا اعلان سامنے آگیا

ایران کے ساتھ کس طرح کا معاہدہ ہونے جا رہا ہے؟، وائٹ ہاؤس کا بڑا اعلان سامنے آگیا

وائٹ ہاؤس نے ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پالیسی کے حوالے سے پیدا ہونے والے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکی صدر ملک کو کسی بھی ایسے ’تباہ کن معاہدے‘ کی طرف نہیں لے جائیں گے جو امریکا یا اس کے اتحادیوں کے مفادات کے منافی ہو۔

واشنگٹن سے جاری ہونے والے ایک اہم بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ ڈیل کا بنیادی مقصد عالمی سطح پر پائیدار امن، سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا۔

عجلت نہیں، مضبوط ڈیل ترجیح ہے، صدر ٹرمپ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ تہران کے ساتھ معاہدہ جلد ممکن نظر آتا ہے، لیکن وہ کسی دباؤ میں آ کر کوئی ‘ناقص یا کمزور’ ڈیل نہیں کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات، ریڈ زون میں شہریوں کا داخلہ اور دفاتر بند، نوٹی فکیشن جاری

انہوں نے ان خبروں کو یکسر مسترد کر دیا کہ وہ کسی سیاسی یا سفارتی دباؤ کی وجہ سے مذاکرات کی میز پر آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدہ صرف اسی صورت میں ہوگا جب وہ امریکی عوام کی توقعات پر پورا اترے گا۔

اہم وفد کا دورۂ اسلام آباد اور بحری ناکہ بندی

صدر ٹرمپ نے ایک حیران کن اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے قریبی ساتھیوں پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح کا وفد جلد ہی پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کا دورہ کرے گا۔

اس وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر شامل ہوں گے۔ سفارتی ماہرین اس دورے کو خطے میں ایران کے حوالے سے نئی صف بندی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے اپنی سخت گیر پوزیشن برقرار رکھتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ جب تک ایران کے ساتھ حتمی معاہدہ طے نہیں پا جاتا، اس وقت تک ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی اور معاشی پابندیاں سختی سے برقرار رکھی جائیں گی۔

امریکا اور ایران کے کشیدہ تعلقات

امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کی جڑیں کئی دہائیوں پر محیط ہیں، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں 2015 کے جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) سے یکطرفہ علیحدگی نے اس کشیدگی کو عروج پر پہنچا دیا تھا۔

مزید پڑھیں:پاکستان کی مؤثر سفارتی کوششوں کے باعث ایران امریکا مذ اکرات کی میز پر آئے، گورنر پنجاب

ٹرمپ انتظامیہ نے ایران پر ‘زیادہ سے زیادہ دباؤ’ کی پالیسی اپنائی تھی، جس کا مقصد ایران کو ایک نئے اور زیادہ سخت شرائط والے معاہدے پر مجبور کرنا تھا۔

موجودہ صورتحال میں ٹرمپ کی واپسی کے بعد یہ سوال گردش کر رہا تھا کہ کیا وہ دوبارہ طاقت کا استعمال کریں گے یا مذاکرات کا راستہ اپنائیں گے۔

وائٹ ہاؤس کا حالیہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکا طاقت اور سفارت کاری کے امتزاج سے ایک ایسا حل چاہتا ہے جو مشرقِ وسطیٰ میں ایرانی اثر و رسوخ کو محدود کر سکے اور جوہری پروگرام پر مکمل کنٹرول حاصل کیا جا سکے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *