وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ خطے میں امن و استحکام اور معاشی صورتحال میں بہتری کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ فوری طور پر عوام کو منتقل کیا جا رہا ہے۔ حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 74 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 67 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کر دیا ہے۔
وزیرِ اعظم کے مطابق نئی قیمتوں کے بعد پٹرول کی فی لیٹر قیمت 373 روپے سے کم ہو کر 299 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت 378 روپے سے کم ہو کر 311 روپے فی لیٹر پر آ جائے گی۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ قوم سے جو وعدہ کیا تھا، الحمدللہ اسے پورا کرنے جا رہے ہیں۔ عوام نے مشکل حالات میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا جس پر حکومت ان کی شکر گزار ہے۔
انہوں نے کہا کہ بحران کے آغاز سے ہی حکومت نے اپنے وسائل کے مطابق تیل کی قیمتوں میں کمی لانے کی کوشش کی۔ وفاقی حکومت نے ترقیاتی بجٹ میں بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات کے ذریعے 129 ارب روپے استعمال کرکے عوام کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے ممکنہ حد تک محفوظ رکھا۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ خطے میں معاشی مشکلات کے دوران جب بعض ممالک میں فیول راشننگ جیسے اقدامات کیے گئے، پاکستان میں مؤثر منصوبہ بندی کے باعث توانائی کا بحران پیدا نہیں ہوا۔ نہ عوام کو لمبی قطاروں کا سامنا کرنا پڑا اور نہ ہی پٹرولیم مصنوعات کی قلت پیدا ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید کمی ہوئی تو اس کا فائدہ بھی براہ راست عوام تک پہنچایا جائے گا۔ حکومت معاشی استحکام برقرار رکھنے اور مہنگائی میں مزید کمی کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔
وزیرِ اعظم نے مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال میں پاکستان کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ثالثی کی بدولت امن ممکن ہوا اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ایک تاریخی پیش رفت ہے۔
انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیرِ اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی اور حکومتی ٹیم کو امن کوششوں میں کردار ادا کرنے پر خراج تحسین پیش کیا۔
وزیرِ اعظم نے معاشی ٹیم کی کاوشوں کو بھی سراہا جن میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، سیکریٹری خزانہ، سیکریٹری پٹرولیم اور چیئرمین ایف بی آر شامل ہیں۔