حکومت کا آئی ایم سے بڑا معاہدہ ! درآمدی پابندیوں میں نرمی، کون سی چیزیں سستی ہونگی ؟

حکومت کا آئی ایم سے بڑا معاہدہ ! درآمدی پابندیوں میں نرمی، کون سی چیزیں سستی ہونگی ؟

پاکستان نے عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ ایک اہم معاشی معاہدے کے تحت درآمدی پابندیوں میں نرمی کا فیصلہ ، بڑے پیمانے پر اصلاحات کا عندیہ دے دیا ہے

جس کے تحت آئندہ مہینوں میں متعدد غیر ضروری رکاوٹیں ختم کیے جانے کا امکان ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ اقدام معیشت کو متحرک کرنے، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے

اور اشیاء کی دستیابی بہتر بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

تقریباً سات ارب ڈالر کے مالیاتی پیکج کے تحت حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جون سے مرحلہ وار درآمدی پابندیوں کو ختم کرنے کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔

اس سلسلے میں 2600 زائد ایسی رکاوٹوں کا جائزہ لیا جائے گا جو درآمدات کی راہ میں حائل ہیں جن میں سے بڑی تعداد کو ختم یا نرم کیا جائے گا۔

  یہ بھی پڑھیں :پاکستان کے لیے نئی معاشی آزمائش، ’آئی ایم ایف‘ سے معاہدہ طے نہ ہوسکا، مذاکرات جاری رکھنے پراتفاق

ابتدائی مرحلے میں موبائل فونز اور گاڑیوں سمیت مختلف شعبوں میں آسانی پیدا کیے جانے کی توقع ہے۔ حکام کے مطابق چھہتر محصولات کے ضابطہ جات کے تحت

عائد پابندیوں کو ختم کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے جن کا تعلق گاڑیوں، ادویات، فولاد، خوراک، زرعی اجناس، خوبصورتی کی اشیاء اور موبائل فونز سے ہے۔

اس اقدام سے دودھ سے بنی اشیاء، کپڑے کی صنعت، فولادی سلاخوں اور ادویات کی درآمد بھی سہل ہو جائے گی۔گاڑیوں کے شعبے میں مکمل

اور نیم تیار شدہ گاڑیوں کی درآمد پر عائد سختیاں کم کی جائیں گی

موبائل فونز کی درآمد کے لیے مخصوص منظوری کی شرط بھی ختم کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ زرعی شعبے میں گوشت، دودھ، پیک شدہ خوراک

  یہ بھی پڑھیں :پاکستان کا آئی ایم ایف سے 7 ارب ڈالر کے قرضے کا نیا معاہدہ

اور خوردنی تیل کی درآمد کو بھی آسان بنانے کا عندیہ دیا گیا ہے، جبکہ ٹیکسٹائل صنعت کے لیے خام مال کی فراہمی میں رکاوٹیں کم کرنے پر بھی غور جاری ہے۔

باقی ماندہ رکاوٹوں کو مرحلہ وار ختم کیا جائے گا اور اس پورے عمل کو 2026 کے اختتام تک مکمل کرنے کی منصوبہ بندی ہے۔

اس حوالے سے سفارشات کابینہ کی متعلقہ کمیٹی کے سامنے پیش کی جائیں گی تاکہ اصلاحاتی عمل کو باقاعدہ شکل دی جا سکے۔

حکومت نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں درآمدی محصولات اور دیگر ٹیکسوں میں مزید کمی کی جائے گی، تاکہ 2030 تک اوسط محصولات کو

چھ فیصد سے بھی کم سطح پر لایا جا سکے۔

تاہم صنعتی حلقوں نے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقامی صنعت کو اعتماد میں لیے بغیر اس نوعیت کی اصلاحات سے

اندرونی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے، اس لیے متوازن حکمت عملی اختیار کرنا ناگزیر ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *