پاکستان نے عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ ایک اہم معاشی معاہدے کے تحت درآمدی پابندیوں میں نرمی کا فیصلہ ، بڑے پیمانے پر اصلاحات کا عندیہ دے دیا ہے
جس کے تحت آئندہ مہینوں میں متعدد غیر ضروری رکاوٹیں ختم کیے جانے کا امکان ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ اقدام معیشت کو متحرک کرنے، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے
اور اشیاء کی دستیابی بہتر بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
تقریباً سات ارب ڈالر کے مالیاتی پیکج کے تحت حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جون سے مرحلہ وار درآمدی پابندیوں کو ختم کرنے کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔
اس سلسلے میں 2600 زائد ایسی رکاوٹوں کا جائزہ لیا جائے گا جو درآمدات کی راہ میں حائل ہیں جن میں سے بڑی تعداد کو ختم یا نرم کیا جائے گا۔