پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد ملک بھر میں ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں اضافہ کر دیا ہے جس کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور کئی مقامات پر جھگڑوں کے واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ اور ملتان سمیت دیگر شہروں میں جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ نے یکطرفہ طور پر کرایوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ بغیر کسی سرکاری اعلان کے اچانک کرایے بڑھا دیے گئے جس سے ان کے سفری اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔
مسافروں کے مطابق کئی ٹرانسپورٹرز مقررہ کرایوں سے زیادہ رقم وصول کر رہے ہیں جس پر مسافروں اور عملے کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ بعض اڈوں پر صورتحال کشیدہ دکھائی دی جہاں مسافروں نے اضافی کرایہ دینے سے انکار کیا تو گاڑیوں میں سوار ہونے سے روک دیا گیا۔
ٹرانسپورٹرز کا مؤقف ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پرانے کرایوں پر سروس چلانا ممکن نہیں رہا اس لیے مجبوری کے تحت کرایوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ کرایوں کا تعین وقت پر نہیں کیا جاتا۔
دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری سطح پر کرایوں میں اضافے کا کوئی واضح نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا اس کے باوجود اضافی وصولی کی جا رہی ہے جو زیادتی کے مترادف ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کرایوں کو فوری طور پر ریگولیٹ کیا جائے اور اوورچارجنگ کے خلاف کارروائی کی جائے۔