امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی خبر رساں ایجنسی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ ایران کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے امریکا سے بات چیت کا خواہشمند ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ تہران امریکی مطالبات کے مطابق پیش کش دینا چاہتا ہے اور اس وقت امریکا ایران کے ان لوگوں سے مذاکرات کر رہا ہے جو فیصلے کرنے کا مکمل اختیار رکھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ ایران کس قسم کی پیش کش سامنے لاتا ہے اور کیا دونوں ممالک کے درمیان کوئی پائیدار معاہدہ ہو سکتا ہے یا نہیں۔
دوسری جانب امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا ہے کہ ’آپریشن اکنامک فیوری‘ کے تحت ایران پر معاشی دباؤ میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کی غیر قانونی تیل کی تجارت کو روکنے کے لیے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں ایرانی تجارت کو سہارا دینے والے تمام نیٹ ورکس پر دباؤ بڑھایا جائے گا۔
اسی سلسلے میں امریکی محکمہ خزانہ نے چین میں قائم ایک آئل ریفائنری، 40 شپنگ کمپنیوں اور متعدد آئل ٹینکرز پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں جو ایران کے ساتھ تیل کی منتقلی میں ملوث پائے گئے تھے۔
دریں اثنا خطے میں عسکری تناؤ بھی عروج پر ہے جہاں امریکی سینٹ کام نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ امریکی فوج نے ایرانی پرچم والے ایک اور بحری جہاز کو روک دیا ہے۔
حکام کے مطابق یہ جہاز ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایرانی بندرگاہ کی طرف جا رہا تھا۔ امریکا کے ان سخت اقدامات کا مقصد ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اس کی معاشی شہ رگ کو بند کرنا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے دوران ایران کے خلاف ’میکسمم پریشر‘ (زیادہ سے زیادہ دباؤ) کی پالیسی کو ایک نیا رخ دیا گیا ہے۔ فروری 2026 سے جاری اس کشیدگی میں اب ’آپریشن اکنامک فیوری‘ ایک اہم موڑ ثابت ہو رہا ہے، جس کا مقصد ایران کی معیشت کو اس حد تک کمزور کرنا ہے کہ وہ امریکی شرائط پر معاہدہ کرنے پر مجبور ہو جائے۔
اب تک کی صورتحال کے مطابق جہاں ایک طرف تہران معاشی طور پر مشکلات کا شکار ہے، وہیں چین جیسے ممالک کے ساتھ اس کی تیل کی تجارت امریکا کے لیے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن نے اب براہِ راست ان غیر ملکی کمپنیوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے جو ایران کی مدد کر رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی ‘مذاکرات اور پابندیاں’ والی بیک وقت حکمتِ عملی تہران کو ایک مشکل انتخاب کے سامنے کھڑا کر رہی ہے۔