جنوبی کوریا کی کار ساز کمپنی ہنڈائی موٹر نے دنیا کی سب سے بڑی آٹو مارکیٹ، چین میں اپنے گرتے ہوئے مارکیٹ شیئر کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے ’انتہائی پرجوش‘ توسیعی منصوبے کا اعلان کر دیا ہے۔
بیجنگ آٹو شو کے موقع پر کمپنی نے بتایا کہ وہ اگلے 5 سالوں کے دوران چین میں 20 نئے ماڈلز متعارف کرائے گی تاکہ مقامی الیکٹرک گاڑیوں (ای وی ایس) کی جانب سے ملنے والے سخت مقابلے کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔
ہنڈائی جو کیا کارپوریشن کے ساتھ مل کر دنیا کا تیسرا بڑا آٹو میکنگ گروپ ہے، نے اس موقع پر چین کے لیے مخصوص مکمل الیکٹرک ماڈل ’ایونک 5‘ بھی متعارف کرایا۔ یہ گاڑی چینی خودکار ڈرائیونگ ڈویلپر ’مومینٹا‘ کی ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔
کمپنی کے سی ای او جوزے مونوز نے میڈیا کو بتایا کہ ہنڈائی کا ہدف 2030 تک چین میں سالانہ 500,000 گاڑیوں کی فروخت حاصل کرنا ہے، جو کہ موجودہ حجم سے دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چین میں بنی گاڑیاں برطانیہ، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کی مارکیٹوں میں برآمد بھی کی جائیں گی، تاہم پہلی ترجیح چینی مارکیٹ میں کامیابی حاصل کرنا ہے۔
کمپنی اپنی نئی حکمتِ عملی کے تحت مقامی شراکت داروں ’بیجنگ آٹوموٹیو گروپ‘ اور بیٹری بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ’سی اے ٹی ایل‘ کے ساتھ تعاون کو وسعت دے رہی ہے۔
ہنڈائی کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ نوجوان چینی صارفین کو ہدف بنانے کے لیے پلگ ان ہائبرڈز اور جدید الیکٹرک گاڑیوں پر توجہ مرکوز کریں گے تاکہ خود کو دیگر غیر ملکی کار ساز کمپنیوں سے ممتاز کیا جا سکے۔
چین کی آٹو مارکیٹ گزشتہ چند سالوں میں ایک بڑے انقلاب سے گزری ہے جہاں بی وائی ڈی جیسی مقامی الیکٹرک گاڑیوں کی کمپنیوں نے ہنڈائی، ٹویوٹا اور ووکس ویگن جیسے عالمی برانڈز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
ہنڈائی کو چین میں اپنے کئی پلانٹس بند کرنے پڑے کیونکہ اس کی روایتی فیول انجن گاڑیوں کی مانگ کم ہو گئی تھی۔ ہنڈائی کا یہ نیا منصوبہ محض ایک تجارتی اعلان نہیں بلکہ بقا کی جنگ ہے، جہاں وہ اپنی ٹیکنالوجی کو چینی صارفین کی ضروریات (خودکار ڈرائیونگ اور سستی بیٹریاں) کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ چین کو برآمدی مرکز بنانا ہنڈائی کے لیے معاشی لحاظ سے بھی فائدہ مند ہوگا، کیونکہ وہاں پیداواری لاگت دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ہے۔