اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کو ملکی سیاست میں ایک بڑے سیاسی دھچکے کا سامنا ہے جہاں اسرائیل کے دو سابق وزرائے اعظم نفتالی بینیٹ اور یائیر لیپڈ نے اپنی سیاسی جماعتوں کو ضم کرکے ایک نئے انتخابی اتحاد کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اتحاد اکتوبر 2026 میں متوقع عام انتخابات میں نیتن یاہو کی مخلوط حکومت کو شکست دینے کے واضح مقصد کے تحت تشکیل دیا گیا ہے۔
اس نئے سیاسی اتحاد کو “ٹوگیدر” کا نام دیا گیا ہے جس کی قیادت نفتالی بینیٹ کریں گے۔ اعلان کے موقع پر بینیٹ نے کہا کہ گزشتہ 30 برسوں سے اسرائیلی سیاست ایک ہی دائرے میں گھوم رہی ہے لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ نیتن یاہو کے طویل سیاسی دور سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے اسرائیل کے لیے ایک نیا راستہ اختیار کیا جائے۔ ان کے مطابق ملک کو داخلی تقسیم سیاسی بحران اور بین الاقوامی دباؤ سے نکالنے کے لیے نئی قیادت اور نئی سوچ ناگزیر ہو چکی ہے۔
یائیر لیپڈ نے بھی اس اتحاد کو اسرائیل کے سیاسی مستقبل کے لیے فیصلہ کن قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اتحاد صرف اقتدار کے حصول کے لیے نہیں بلکہ اسرائیل میں جمہوری اقدار حکومتی شفافیت اور قومی یکجہتی کی بحالی کے لیے بنایا جا رہا ہے۔
بینیٹ اور لیپڈ کا یہ اتحاد اسرائیلی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ دونوں رہنما ماضی میں نیتن یاہو مخالف ووٹ بینک کو متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔ اگر یہ اتحاد عوامی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہا تو نیتن یاہو کی سیاسی گرفت پہلی بار سنجیدہ خطرے سے دوچار ہو سکتی ہے۔