چار دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط کیریئر رکھنے والی بشریٰ انصاری نے چائلڈ آرٹسٹ کے طور پر آغاز کیا اور وقت کے ساتھ پاکستان شوبز انڈسٹری کی صفِ اول کی اداکاراؤں میں شمار ہونے لگیں۔ وہ اپنی بےباک رائے کے لیے بھی جانی جاتی ہیں اور اس بار بھی انہوں نے کسی ہچکچاہٹ کے بغیر اپنا مؤقف سامنے رکھا۔
حال ہی میں فردوس جمال ایک پوڈکاسٹ میں نظر آئے جہاں انہوں نے مرحوم اداکاروں طلعت محمود، خیام سرحدی ،شفیع محمد اور راحت کاظمی سمیت دیگر فنکاروں پر تنقید کی۔ انہوں نےعابد علی سے متعلق بھی سخت رائے دیتے ہوئے کہا کہ ان میں سے کسی کو اداکاری نہیں آتی تھی۔ ان بیانات پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا خاص طور پر اس لیے کہ جن فنکاروں کا ذکر کیا گیا وہ اس دنیا میں موجود نہیں۔
اب بشریٰ انصاری نے اپنے وی لاگ میں اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ فردوس جمال کے الفاظ سن کر انہیں دلی دکھ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ وہ فردوس جمال کی عزت کرتی ہیں مگر کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دوسروں کو برا بھلا کہے۔
بشریٰ انصاری کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی انڈسٹری میں کم ہی ایسے اداکار ہیں جنہیں کمزور کہا جا سکے اس لیے کسی کی تضحیک کرنے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے فردوس جمال کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی سوچ اور اندازِ گفتگو پر غور کریں کیونکہ منفی رویہ نہ صرف دوسروں بلکہ انسان کے اپنے گھر والوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔
یہ معاملہ ایک بار پھر شوبز انڈسٹری میں باہمی احترام اور تنقید کے انداز پر سوال اٹھا رہا ہے۔