کیا کائنات میں پانچویں قوت موجود ہے؟ سائنسدانوں کا حیران کن انکشاف

کیا کائنات میں پانچویں قوت موجود ہے؟ سائنسدانوں کا حیران کن انکشاف

سائنسدانوں نے ایک حیران کن امکان پیش کیا ہے کہ کائنات کو چلانے والی چار بنیادی قوتوں کے علاوہ ایک پراسرار ’پانچویں قوت‘ بھی موجود ہو سکتی ہے جو کہکشاؤں کی ترتیب اور کائنات کے پھیلاؤ کے پیچھے اصل کردار ادا کر رہی ہو۔

یہ بھی پرھیں :سپارکو کا تاریخی کارنامہ، پاکستان کا مقامی الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹ (EO-3) کامیابی کے ساتھ خلا میں بھیج دیا

یہ خیال موجودہ طبیعیات کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اگر اس کی تصدیق ہو گئی تو ہماری پوری سائنسی سمجھ بدل سکتی ہے۔

اب تک سائنسکشش ثقل ، الیکٹرومیگنیٹازم، سٹرونگ نیوکلیئرفورس اور ویک نیوکلئیرفورس کو کائنات کی بنیادی قوتیں مانتی ہے۔ یہ قوتیں زیادہ تر مظاہر کی وضاحت کرتی ہیں، لیکن ماہرین کے مطابق ابھی تصویر مکمل نہیں۔

یہ بھی پڑھیں :ڈیپ سیک کا بڑا اعلان، نیا اے آئی ماڈل وی4 میدان میں آگیا

تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ کائنات کا تقریباً 95 فیصد حصہ ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی پر مشتمل ہے جنہیں براہ راست دیکھا نہیں جا سکا۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ ممکنہ ’پانچویں قوت‘ ان پوشیدہ عناصر اور نظر آنے والی کائنات کے درمیان ایک رابطہ ثابت ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس نظریے کو جانچنے کے لیے زمین اور چاند کے درمیان فاصلے کی انتہائی درست پیمائش لیزر شعاعوں کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ اگر کششِ ثقل کے موجودہ حسابات اور تجربات میں معمولی سا فرق بھی سامنے آیا تو یہ ایک نئی قوت کے وجود کا اشارہ ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ایلون مسک کا ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ پر دلچسپ تبصرہ

دلچسپ بات یہ ہے کہ ماضی میں بھی کچھ ایسے شواہد سامنے آ چکے ہیں جو اس خیال کو تقویت دیتے ہیں۔ 2015 میں ہنگری کے سائنسدانوں نے ایک غیر معمولی مشاہدہ کیا تھا جسے بعد میں ’ایکس بوسون‘ نامی ممکنہ نئے ذرے سے جوڑا گیا جو ایک نئی قوت کی نشاندہی کر سکتا ہے۔

حالیہ تجربات میں بھی کچھ ایسے نتائج سامنے آئے ہیں جو موجودہ سائنسی ماڈلز سے مکمل میل نہیں کھاتے جس کے بعد یہ سوال مزید مضبوط ہو گیا ہے کہ کیا واقعی کائنات میں کوئی اضافی قوت موجود ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ’پانچویں قوت‘ کا وجود ثابت ہو گیا تو یہ صرف طبیعیات ہی نہیں بلکہ کائنات کے آغاز، ساخت اور مستقبل کو سمجھنے کا انداز بھی بدل دے گا اور سائنسی دنیا کے لیے ایک نیا باب کھل جائے گا۔

editor

Related Articles