پیٹرولیم مصنوعات سے متعلق وزیر پیٹرولیم کا اہم بیان سامنے آگیا

پیٹرولیم مصنوعات سے متعلق وزیر پیٹرولیم کا اہم بیان سامنے آگیا

وفاقی وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک نے خبردار کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم ہوتی دکھائی نہیں دے رہی، جبکہ پاکستان کے پاس تیل کے اسٹریٹجک ذخائر انتہائی محدود سطح پر موجود ہیں جو مستقبل میں توانائی بحران کا سبب بن سکتے ہیں۔

ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ملک میں اس وقت خام تیل کے ذخائر محض پانچ سے سات دن کے لیے دستیاب ہیں، جبکہ پٹرول کے ذخائر ایک دن کے لیے بھی موجود نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے اور تاریخ میں کبھی دبئی کروڈ کی قیمت170ڈالر فی بیرل تک نہیں پہنچی،اس صورتحال کے پیش نظر حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لیے سبسڈی فراہم کرنے اور پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ حالات میں پاکستان کو اپنی توانائی حکمت عملی پر فوری نظرثانی کرنا ہوگی اور ذخائر بڑھانے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے،انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیزل ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے اس کی قیمتوں اور دستیابی کا براہِ راست اثر معیشت پر پڑتا ہے۔

ڈیزل کی قیمتوں کا موجودہ فارمولا سن 2002 سے نافذ ہے اور اگر عالمی منڈی میں قیمتیں ایک سو ڈالر کے قریب ہوں تو مقامی ریفائنریز سے اسی ڈالر پر مصنوعات کی توقع رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں۔

وزیراعظم پاکستان کے ساتھ ہونے والی مشاورت کا ذکر کرتے ہوئے علی پرویز ملک نے بتایا کہ ملک میں 30 دن کے خام تیل کے ذخائر قائم کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے تاکہ توانائی کی سکیورٹی کو مضبوط بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی ریفائنریز پرانی ہو چکی ہیں اور انہیں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے فوری اپ گریڈیشن ناگزیر ہے،انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت توانائی کے شعبے میں بہتری لانے اور ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی تاکہ عوام کو درپیش مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔

editor

Related Articles