فرانسیسی صدر ایمانیول میکرون نے امریکا اور ایران سے آبنائے ہرمز مشترکہ طور پر کھولے جانے پر زور دیا ہے ، انہوں نے آبنائے ہرمز کھلوانے کے لئے ایک بار پھر فوجی کارروائی سے انکار کردیا۔
فرانسیسی صدر نے یورپی رہنماؤں کے اجلاس سے قبل میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ امریکا اور ایران مشترکہ طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولیں، یہی آبنائے ہرمز کو کھولنے کا واحد حل ہے۔
فرانس نے برطانیہ کے ساتھ مل کر امن قائم ہونے کے بعد آبنائے کی دوبارہ کشادگی کے لیے اتحاد بنانے کی کوششیں کی ہیں ، اس حوالے سے فرانسیسی رہنما نے کہا، “ہم کسی فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لیں گے جس کا فریم ورک میرے لیے غیر واضح ہو۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تیل اور گیس کی تجارت کے لیے ایک اہم شریان ہے، اسی وجہ وجہ سے اس آبنائے میں کوئی بھی خلل بین الاقوامی منڈیوں پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔
اس سے قبل ایمانویئل میکرون نے امریکہ کے مجوزہ فوجی اقدام ’پروجیکٹ فریڈم‘ میں شامل ہونے سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ یورپ اپنی سکیورٹی حکمت عملی خود تیار کر رہا ہے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے طاقت کے بجائے سفارتی مذاکرات ہی واحد پائیدار حل ہیں۔
آرمینیا کے دارالحکومت یریوان میں منعقدہ یورپی سیاسی برادری کے آٹھویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میکرون نے واضح کیا کہ یورپی یونین دفاع اور سلامتی کے شعبے میں خودمختاری کی طرف بڑھ رہی ہے، یورپ نہ صرف اپنے دفاعی اخراجات میں اضافہ کر رہا ہے بلکہ مشترکہ سکیورٹی حل بھی تیار کر رہا ہے تاکہ عالمی سطح پر خود کو مضبوط بنا سکے۔
واضح رہے فروری کے آخر سے ایرانی افواج نے عملی طور پر آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے جہاں سے عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ اس صورت حال سے تیل، گیس اور کھاد کی بنیادی سپلائی میں خلل پڑا ہے، امریکہ نے 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔