عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کے باعث پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید نمایاں کمی کا امکان پیدا ہو گیا ہے حکومت ہفتہ وار جائزے میں عوام کو مزید ریلیف دینے پر غور کر رہی ہے جبکہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے نئی قیمتوں کے تعین کے لیے اپنی ورکنگ مکمل کرتے ہوئے سمری تیاری شروع کر دی ہے
ذرائع کا کہنا ہے کہ اوگرا کی جانب سے تیار کی گئی ابتدائی سمری میں مختلف پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 5 روپے سے 15 روپے فی لیٹر تک کمی کی مختلف تجاویز زیر غور ہیں۔ تاہم قیمتوں میں کتنی کمی کی جائے گی اس کا حتمی فیصلہ وزیراعظم کی منظوری کے بعد کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق قیمتوں میں کمی کا فیصلہ کرنے کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت جاری ہے اس حوالے سے قیمتوں میں کمی کیلئے آئل پروڈکشن کمپنیز کی طرف سے اعتراض کیا جارہا ہے تاہم اس حوالے سے وزیر اعظم کی طرف سے بنائی گئی کمیٹی تمام امور کا جائزہ لیکر اوگرا کے ساتھ معاملات کو حتمی شکل دے رہی ہے اور آئندہ چند گھنٹوں میں باضابطہ سمری تیار کر کے وزارت خزانہ کو ارسال کر دی جائیگی اور یہ بھی خدشہ ظاہرکیا جا رہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کوئی ردوبدل نہ کیا جائے بلکہ سابقہ قیمتیں برقرار رکھی جائیں
اس سے قبل گزشتہ ہفتے بھی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی کمی کا اعلان کیا تھا جس کے تحت بعض مصنوعات کی قیمت میں 74 روپے فی لیٹر تک کمی کی گئی تھی۔ حکومت کا کہنا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں کم ہونے کا فائدہ عوام تک منتقل کیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے بھی گزشتہ روز اپنے بیان میں عندیہ دیا تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کے باعث آئندہ بھی پیٹرول کی قیمت میں مزید کمی کی گنجائش موجود ہے جس سے عوام کو مزید ریلیف مل سکتا ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی خلیجی ممالک کی جانب سے سپلائی میں اضافے کمزور عالمی طلب اور خطے میں جغرافیائی کشیدگی میں کمی جیسے عوامل قیمتوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ یہی صورتحال پاکستان جیسے درآمدی ممالک کے لیے مثبت ثابت ہو سکتی ہے۔
توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں موجودہ سطح پر برقرار رہتی ہیں تو پاکستان میں نہ صرف پیٹرول اور ڈیزل مزید سستے ہونے کا امکان ہے بلکہ اس کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ کے اخراجات، صنعتی پیداواری لاگت اور مہنگائی کی مجموعی شرح میں بھی کمی آ سکتی ہے۔
اب تمام نظریں وزیر اعظم پر مرکوز ہیں جہاں اوگرا کی سمری کا جائزہ لینے کے بعد وزیراعظم حتمی منظوری دیں گے۔ اگر مجوزہ تجاویز منظور ہو جاتی ہیں تو آئندہ قیمتوں کے اعلان میں عوام کو ایک بار پھر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں ریلیف ملنے کا امکان ہے۔