راولاکوٹ دھرنے کے دوران کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے مبینہ مالیاتی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق دھرنے میں موجود حمزہ نامی شخص مبینہ طور پر فون کے ذریعے مختلف افراد کو متحرک کر کے مختلف علاقوں سے فنڈز اکٹھے کرواتا اور انہیں راولاکوٹ بھجوانے کی ہدایات دیتا تھا۔
اطلاعات کے مطابق فنڈز لے کر راولاکوٹ جانے والے ایک شخص کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔ دورانِ تفتیش حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر اس مبینہ مالیاتی نیٹ ورک سے وابستہ مزید افراد کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔
ابتدائی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ بیرونِ ملک اور دیگر ذرائع سے موصول ہونے والی رقوم میں سے ایک حصہ مبینہ طور پر ذاتی استعمال میں رکھا جاتا تھا، جبکہ باقی رقم کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی سرگرمیوں کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔
تحقیقات کے دوران حمزہ کی اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ ہونے والی مبینہ چیٹ بھی سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس گفتگو میں اس نے یہ تاثر دیا کہ عوامی ایکشن کمیٹی اپنی اصل عوامی حقوق کی تحریک سے ہٹ چکی ہے اور اس پر نیشنلسٹ عناصر کا غلبہ ہو گیا ہے، جس کے باعث تنظیم کی سمت تبدیل ہو چکی ہے۔ چیٹ کے مطابق اس کا کہنا تھا کہ اب عوامی حقوق کا ایجنڈا پس منظر میں چلا گیا ہے اور تحریک کسی اور سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔
پولیس اور متعلقہ ادارے اس معاملے کی مزید تحقیقات کر رہے ہیں اور گرفتار افراد سے تفتیش کا عمل جاری ہے