آزاد جموں کشمیر میں سیاسی گہما گہمی اورانتخابی دنگل عروج پر پہنچ گیا ہے۔ عام انتخابات 2026 کے لیے امیدواروں کی جانب سے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا اہم ترین مرحلہ کامیابی سے مکمل ہو گیا ہے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ حتمی اعداد و شمار کے مطابق ریاست کے مجموعی طور پر 45 انتخابی حلقوں سے 1265 امیدواروں نے ملک کے اس بڑے جمہوری معرکے میں حصہ لینے کے لیے اپنے کاغذات جمع کرائے ہیں، جس کے بعد وادی بھر میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔
عام حلقوں اور مہاجرین کی نشستوں کی تفصیلات
مظفرآباد میں الیکشن کمیشن کے ترجمان کی جانب سے فراہم کردہ سرکاری تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر کی حدود میں واقع 33 عام حلقوں کے لیے سب سے زیادہ جوش و خروش دیکھا گیا ہے، جہاں 1047 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کے مختلف شہروں میں مقیم جموں کشمیر کے مہاجرین کے لیے مختص 12 خصوصی نشستوں پر بھی سخت مقابلے کی فضا ہے، جہاں 218 امیدواروں نے انتخابی عمل کا حصہ بننے کے لیے اپنی نامزدگی کی دستاویزات جمع کروائی ہیں۔
انتخابی شیڈول اور سیاسی جوڑ توڑ
واضح رہے کہ آزاد کشمیر میں نئی حکومت کے انتخاب کے لیے پولنگ 27 جولائی 2026 کو ہونے جا رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے شیڈول جاری ہونے کے بعد تمام سیاسی جماعتوں نے حلقوں کی سطح پر جوڑ توڑ اور کارنر میٹنگز کا آغاز کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ آزاد کشمیر کے ان آئندہ عام انتخابات میں روایتی حریفوں یعنی پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان کانٹے کا اور کڑا مقابلہ ہونے کا قوی امکان ہے، جبکہ دیگر مقامی جماعتیں بھی اپ سیٹ کرنے کے لیے پر تول رہی ہیں۔
آزاد کشمیر کا سیاسی ڈھانچہ اور مہاجرین کی نشستوں کی اہمیت
آزاد جموں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کل 53 نشستوں پر مشتمل ہوتی ہے، جن میں سے 45 نشستوں پر براہ راست عام انتخابات کے ذریعے ارکان منتخب ہو کر آتے ہیں۔
ان 45 نشستوں میں سے 33 حلقے آزاد کشمیر کے اندرونی اضلاع (جیسے مظفرآباد، میرپور، پونچھ اور کوٹلی وغیرہ) پر مشتمل ہیں، جبکہ 12 نشستیں پاکستان کے چاروں صوبوں میں آباد مہاجرین جموں و کشمیر کے لیے مخصوص ہیں، جہاں پاکستان بھر سے کشمیری ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہیں۔
ماضی کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ وفاق میں جو جماعت برسرِاقتدار ہوتی ہے، آزاد کشمیر کے انتخابات میں بھی عام طور پر اسی کا پلہ بھاری رہتا ہے، تاہم 2026 کے یہ انتخابات موجودہ سیاسی صف بندیوں کی وجہ سے انتہائی منفرد مانے جا رہے ہیں۔
امیدواروں کی بڑی تعداد اور ٹکٹوں کا تنازع
45 نشستوں پر 1265 امیدواروں کا سامنے آنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اوسطاً ہر حلقے سے 28 امیدوار میدان میں ہیں۔ اتنی بڑی تعداد کی وجہ سے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی دونوں کو اپنے ٹکٹ ہولڈرز فائنل کرنے میں شدید اندرونی اختلافات اور باغی امیدواروں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو آزاد امیدواروں کے طور پر ووٹ بینک کو نقصان پہنچائیں گے۔
ن لیگ بمقابلہ پیپلز پارٹی
وفاقی سیاست میں حلیف ہونے کے باوجود آزاد کشمیر کے میدان میں دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے سامنے کھڑی ہیں۔
ن لیگ اپنے ترقیاتی کاموں اور وفاق کی حمایت پر تکیہ کیے ہوئے ہے، جبکہ پیپلز پارٹی کشمیر کارڈ اور ماضی کے مضبوط مقامی نیٹ ورک کو استعمال کر کے حکومت بنانے کی کوشش میں ہے۔ یہ مقابلہ دونوں جماعتوں کے مقبولیت کے گراف کا حقیقی امتحان ہوگا۔
مہاجرین کی 12 نشستوں کا فیصلہ کن کردار
مہاجرین کی 12 نشستیں ہمیشہ آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے لیے ‘کنگ میکر’ کا کردار ادا کرتی ہیں۔ چونکہ یہ ووٹرز پاکستان کے مختلف شہروں (جیسے لاہور، کراچی اور راولپنڈی) میں رہتے ہیں، اس لیے ان حلقوں پر انتخابی مہم کا انداز اور نتائج آزاد کشمیر کے اندرونی حلقوں سے بالکل مختلف ہوتے ہیں اور جو جماعت یہاں برتری لے گی، حکومت اسی کی بنے گی۔