آزاد کشمیر کی مہاجرین نشستوں کا معاملہ ، خواجہ آصف کا بڑا بیان سامنے آگیا

آزاد کشمیر کی مہاجرین نشستوں کا معاملہ ، خواجہ آصف کا بڑا بیان سامنے آگیا

وزیر دفاع خواجہ آصف نے آزاد کشمیر کی مہاجرین نشستوں سے متعلق معاملے پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک فارن فنڈڈ تنظیم ان نشستوں کے معاملے پر بلیک میلنگ کر رہی ہے جبکہ اس حوالے سے فیصلہ آزاد کشمیر کے عوام اور مہاجرین کو خود کرنے دیا جانا چاہیے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز کے باوجود پاکستان نے اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کا مقابلہ کیا اور قربانیاں دینے والے جوانوں کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

وزیر دفاع نے کہا کہ ملک کے لیے جانیں قربان کرنے والے اہلکاروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ انہوں نے دہشت گردی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان سے متعلق معاملات کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستانی جوان مسلسل دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دے رہے ہیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے کئی دہائیوں تک افغان مہاجرین کی میزبانی کی اور افغانستان کے ساتھ دہشت گردی کے مسئلے پر مذاکرات کے لیے مختلف راستے اختیار کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ قطر اور ترکیہ کے ذریعے بھی رابطے کیے گئے لیکن ابھی تک یہ کوششیں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکیں۔

 یہ بھی پڑھیں :مودی سرکار نے پھر پنگا لیا تو بھارت دنیا کے جغرافیے سے مٹ جائے گا، ذکر محض بوسیدہ کتابوں میں ملے گا، خواجہ آصف

ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان کو بڑی سفارتی کامیابی حاصل ہوئی ہے اور اس پیش رفت سے ملک کے وقار میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی کوششوں سے مشکل صورتحال میں اہم پیش رفت ممکن ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کو سراہا جا رہا ہے اور قوموں کی تاریخ میں ایسے مواقع طویل عرصے بعد آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن کے لیے تمام سیاسی قوتوں اور اداروں کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔

وزیر دفاع نے ایوان میں سیاسی اختلافات کے باوجود پارلیمانی روایات برقرار رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایک دوسرے پر بے بنیاد الزامات سے گریز کرنا چاہیے اور قومی اداروں و ایوان کے تقدس کا خیال رکھا جانا ضروری ہے۔

editor

Related Articles