پاک ایران وزرائے داخلہ کی اہم ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پراتفاق

پاک ایران وزرائے داخلہ کی اہم ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پراتفاق

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کے درمیان ایک انتہائی اہم اور اسٹرٹیجک ملاقات ہوئی ہے، جس میں پاک ایران برادرانہ تعلقات، خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال اور حالیہ سیکیورٹی و امن پیشرفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس اعلیٰ سطح کے اجلاس میں سیکیورٹی تعاون، انسداد دہشتگردی، سائبر سیکیورٹی اور امیگریشن سمیت مختلف کلیدی شعبوں میں مشترکہ ورکنگ کو مزید فروغ دینے پر مکمل اتفاق کیا گیا ہے۔

عالمی امن پیشرفت اور پاکستان کا مؤقف

ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے میں کشیدگی میں واضح کمی پر گہرے اطمینان کا اظہار کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں ہونے والے مشترکہ اعلامیے پر اپنے ایرانی ہم منصب کو خصوصی طور پر مبارکباد دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:محسن نقوی کی تہران میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ یہ تاریخی پیش رفت ایران کی موجودہ حکومت اور اعلیٰ قیادت کی سنجیدہ، مدبرانہ اور مخلصانہ کوششوں کے بغیر کسی طور ممکن نہ تھی۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ سے خطے اور پوری دنیا میں امن و استحکام کا خواہاں رہا ہے اور مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے قیام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس حالیہ امن معاہدے کے پورے خطے پر انتہائی مثبت اور دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

ایرانی وزیر داخلہ کا دورہ پاکستان کا اعلان اور امریکی مذاکرات

ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی مہمان نوازی اور حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ جلد ہی پاکستان کا ایک تفصیلی اور باقاعدہ دورہ کریں گے، جس کا بنیادی مقصد دونوں برادر ممالک کی وزارت داخلہ کے مابین ادارہ جاتی تعاون کو مزید ٹھوس اور مضبوط بنانا ہوگا۔

ایرانی وزیر داخلہ نے بین الاقوامی سطح پر ہونے والے ایران امریکہ مذاکرات میں پاکستان کے مثبت سفارتی کردار اور پاکستانی عوام کی مسلسل اخلاقی حمایت کو بھی خصوصی طور پر سراہا اور اسے دونوں ممالک کے گہرے تزویراتی تعلق کا مظہر قرار دیا۔

اجلاس کے شرکا

اس اہم ترین ملاقات میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری، وفاقی سیکرٹری داخلہ اور دونوں ممالک کے دیگر اعلیٰ سیکیورٹی و سفارتی حکام بھی موجود تھے، جنہوں نے مختلف امور پر تکنیکی مشاورت فراہم کی۔

پاک ایران سیکیورٹی تعلقات اور بدلتی ہوئی علاقائی سفارت کاری

پاکستان اور ایران کے درمیان 900 کلومیٹر طویل سرحد واقع ہے، جو ماضی میں سرحد پار دہشت گردی اور اسمگلنگ جیسے چیلنجز کی وجہ سے سیکیورٹی دباؤ کا شکار رہی ہے۔

 تاہم حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک نے بارڈر مینجمنٹ اور انٹیلیجنس شیئرنگ کے نظام کو کافی بہتر کیا ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں ہونے والی حالیہ امن پیشرفت اور ایران کے دیگر عالمی طاقتوں (بشمول امریکہ) کے ساتھ بیک چینل مذاکرات میں پاکستان نے ہمیشہ ایک غیر جانبدار اور امن پسند ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب اور ایران کے تعلقات کی بحالی کے بعد اب ایران اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی خطے کی معاشی ترقی کے لیے ناگزیر سمجھی جا رہی ہے۔

ایران امریکا مذاکرات میں پاکستان کا کلیدی کردار

ایرانی وزیر داخلہ کی جانب سے ایران امریکہ مذاکرات میں پاکستان کے کردار کی کھلی تعریف یہ ثابت کرتی ہے کہ اسلام آباد عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی پل کا کام کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں:فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایک بار پھر کر دکھایا، محسن نقوی سمیت عالمی رہنمائوں کا خراج تحسین

پاکستان کا یہ غیر جانبدارانہ اور تعمیری کردار واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ اس کے تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کا باعث بن رہا ہے۔

سرحدی سیکیورٹی اور انسداد دہشت گردی

بارڈر سیکیورٹی اور انسداد دہشتگردی پر اتفاق ایسے وقت میں ہوا ہے جب دونوں ممالک عسکریت پسند گروپوں کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ وزارت داخلہ کی سطح پر تعاون بڑھنے سے انٹیلیجنس شیئرنگ تیز ہوگی، جس سے بلوچستان اور سیستان کے سرحدی علاقوں میں امن قائم کرنے میں مدد ملے گی۔

سائبر سیکیورٹی کا نیا محاذ

پہلی بار روایتی سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ ’سائبر سیکیورٹی‘ کو بھی اس ایجنڈے کا حصہ بنایا گیا ہے۔ ڈیجیٹل دور میں دونوں ممالک پر ہونے والے سائبر حملوں اور پروپیگنڈا وار کے خلاف یہ مشترکہ حکمت عملی انفرادی سیکیورٹی کو مضبوط کرے گی۔

برگن اسٹاک اعلامیے کے اثرات

سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مشترکہ اعلامیے پر پاکستان کا ایران کو مبارکباد دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں ایران کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر اور امن کوششوں کی کھل کر تائید کر رہا ہے، جو خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات پر اثر انداز ہوئے بغیر علاقائی استحکام کا باعث بنے گا۔

Related Articles