راکھ سے دوبارہ جی اٹھنے کا عزم، ایران میں 37,000 عمارتیں بحال، تعمیرِ نو کی تصاویر سے دنیا حیران

راکھ سے دوبارہ جی اٹھنے کا عزم، ایران میں 37,000 عمارتیں بحال، تعمیرِ نو کی تصاویر سے دنیا حیران

ایران میں حالیہ جنگی صورتحال کے نتیجے میں تباہ ہونے والے بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے بڑے پیمانے پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔

ایرانی ’ہاؤسنگ فاؤنڈیشن‘ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اب تک ملک بھر میں 37,000 سے زیادہ رہائشی اور تجارتی عمارتوں کی مرمت کا کام مکمل کیا جا چکا ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں اور کاروباری طبقے کو دوبارہ پیروں پر کھڑا کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی میزائل حملے، اسرائیل میں تباہی؛ متعدد عمارتیں ملبے کا ڈھیر، درجنوں زخمی

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران ایران میں شہری آبادیوں کو شدید نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 1,25,000 (سوا لاکھ) سے زیادہ عمارتیں یا تو مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن گئیں یا انہیں جزوی طور پر نقصان پہنچا۔ اس تباہی نے بڑے پیمانے پر اندرونی ہجرت اور معاشی بحران کو جنم دیا ہے۔

طبی مراکز کو پہنچنے والے نقصانات

فاؤنڈیشن کے مطابق صرف رہائشی عمارات ہی نہیں بلکہ صحت کا شعبہ بھی شدید متاثر ہوا۔ اعداد و شمار کے مطابق 339 اسپتالوں، چھوٹے کلینکس، فارمیسیز اور ایمرجنسی طبی مراکز کو نقصان پہنچا، جس سے زخمیوں کے علاج معالجے میں شدید مشکلات پیش آئیں۔

موجودہ بحالی پروگرام کے تحت ان طبی مراکز کی ترجیحی بنیادوں پر تعمیرِ نو کی جا رہی ہے تاکہ عوام کو بنیادی صحت کی سہولیات میسر آ سکیں۔

ایک مشکل دور کی عکاسی

گزشتہ سال اور رواں سال امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے دوران ایران کو اپنی تاریخ کے بدترین فضائی حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہوئے جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر تھی۔

ان حملوں میں نہ صرف فوجی تنصیبات بلکہ گنجان آباد شہری علاقوں، تعلیمی اداروں اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا، جس کا مقصد ایران کی معیشت اور عوامی حوصلے کو توڑنا تھا۔ اب حکومت کی توجہ ’نیشنل ری کنسٹرکشن پلان‘ کے تحت ملک کو دوبارہ سنوارنے پر مرکوز ہے۔

تعمیرِ نو کے چیلنجز اور عزم

ایران کی جانب سے بحالی کے اس کام کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ 37,000 عمارتوں کی مختصر وقت میں مرمت یہ ظاہر کرتی ہے کہ ایران کا انتظامی ڈھانچہ اور ’ہاؤسنگ فاؤنڈیشن‘ شدید دباؤ کے باوجود فعال ہیں۔ یہ عالمی برادری کو پیغام ہے کہ پابندیوں اور حملوں کے باوجود ملک کے اندرونی استحکام کو برقرار رکھا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:اسرائیل پر ایران کے میزائل حملوں میں زبردست تیزی‘، تل ابیب میں تباہی، 24 گھنٹوں میں 100 سے زیادہ اسرائیلی زخمی

سوا لاکھ سے زیادہ عمارتوں کی تباہی محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک بڑا انسانی المیہ ہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر مکانات کی دوبارہ تعمیر کے لیے اربوں ڈالرز کے فنڈز درکار ہوں گے، جو ایرانی معیشت پر اضافی بوجھ ڈالیں گے۔

339 طبی مراکز کا نشانہ بننا ظاہر کرتا ہے کہ جنگ کے دوران بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ ان مراکز کی بحالی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ وبا یا ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔

Related Articles