اسحاق ڈار سے نارویجن نائب وزیر خارجہ کی اہم ملاقات، علاقائی امن کے لیے پاکستان کا کردار ناگزیر ہے، آندریاس موٹزفیلڈٹ کراوک

اسحاق ڈار سے نارویجن نائب وزیر خارجہ کی اہم ملاقات، علاقائی امن کے لیے پاکستان کا کردار ناگزیر ہے، آندریاس موٹزفیلڈٹ کراوک

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے ناروے کے نائب وزیر خارجہ آندریاس موٹزفیلڈٹ کراوک نے وزارت خارجہ میں اہم ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں بدلتی ہوئی علاقائی صورت حال، دو طرفہ تعاون اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی مسلسل کوششوں، شمولیت اور مکالمے کی اہمیت پر زور دیا۔

ناروے کے نائب وزیر خارجہ نے پاکستان کے تعمیری کردار کی تعریف کی اور تنازعات کے پرامن اور پائیدار حل کے لیے جاری کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور مختلف شعبوں میں شراکت داری کو گہرا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

اوسلو فورم کے لیے دعوت

ملاقات کی ایک اہم کڑی ناروے کے وزیر خارجہ کی جانب سے اسحاق ڈار کو ’اوسلو فورم‘ میں شرکت کی باضابطہ دعوت تھی۔ یہ فورم اگلے ماہ ناروے میں منعقد ہونے والا ہے، جس کا مقصد عالمی تنازعات کے حل کے لیے مشاورت کرنا ہے۔ نائب وزیراعظم نے اس دعوت پر شکریہ ادا کیا اور دونوں فریقین نے اہم امور پر قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔

پاکستان اور ناروے کے سفارتی تعلقات

پاکستان اور ناروے کے درمیان دہائیوں پر محیط دوستانہ تعلقات ہیں، جن کی بنیاد مضبوط اقتصادی تعاون اور ناروے میں مقیم پاکستانی تارکین وطن کی بڑی تعداد پر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اسحاق ڈار اور عباس عراقچی کے درمیان رابطہ، خطے کی صورتحال اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تبادلۂ خیال

ناروے نے ہمیشہ جنوبی ایشیا میں امن اور انسانی حقوق کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں اور صاف توانائی (گرین انرجی) کے شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون میں اضافہ ہوا ہے۔

اسحاق ڈار کی قیادت میں پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کو ‘اکنامک ڈپلومیسی’ کی طرف موڑ رہا ہے، جس میں ناروے جیسے یورپی ممالک کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

اوسلو فورم کی دعوت اور علاقائی اہمیت

واضح رہے کہ اس ملاقات کے دوران ناروے کی جانب سے ’اوسلو فورم‘ میں شرکت کی دعوت اس بات کی علامت ہے کہ عالمی برادری علاقائی تنازعات (جیسے افغانستان اور ایران امریکا کشیدگی) کے حل میں پاکستان کے کلیدی کردار کو تسلیم کرتی ہے۔

محض سیاسی بات چیت کے بجائے ’مختلف شعبوں میں شمولیت کو گہرا کرنے‘ کا تذکرہ ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ممالک تجارت، ٹیکنالوجی اور تعلیم میں طویل المدتی شراکت داری چاہتے ہیں۔

اسحاق ڈار کا مکالمے پر زور دینا اس پالیسی کا تسلسل ہے جس کے تحت پاکستان خود کو خطے میں ایک ’سہولت کار‘ کے طور پر پیش کر رہا ہے، تاکہ معاشی ترقی کے لیے پرامن ماحول میسر آ سکے۔

Related Articles