حکومتِ پاکستان نے ملک کی توانائی کی حفاظت کو یقینی بنانے اور عالمی سطح پر پیدا ہونے والے کسی بھی ہنگامی بحران سے نمٹنے کے لیے ملک بھر میں ’اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو‘ قائم کرنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس عظیم الشان منصوبے کی منصوبہ بندی اور تکنیکی جائزے کے لیے بین الاقوامی کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کی جائیں گی، تاکہ پاکستان بھی عالمی معیار کے مطابق تیل کے محفوظ ذخائر رکھنے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہو سکے۔
وزارتی کمیٹی اور فوری اقدامات
وزارتِ توانائی نے اس مقصد کے لیے ایک 8 رکنی خصوصی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ یہ کمیٹی 11 مئی کو اپنا پہلا اجلاس منعقد کرے گی اور محض 3 دن کی قلیل مدت میں، یعنی 14 مئی تک اپنی ابتدائی سفارشات وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک کو پیش کرے گی۔
کمیٹی کا بنیادی کام بین الاقوامی کنسلٹنٹس، مالیاتی ماہرین اور قانونی اداروں کے انتخاب کے لیے ٹینڈر دستاویزات تیار کرنا ہے، جو منصوبے کے تکنیکی، حفاظتی اور مالیاتی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔
قطر سے ایل این جی سپلائی میں تعطل اور حالیہ صورتحال
عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق، حالیہ دنوں میں قطر سے ایل این جی کی سپلائی میں تعطل کے بعد حکومت نے 6 مئی کو اسپاٹ ایل این جی خریدنے کے لیے ٹینڈر جاری کیا تھا، تاہم موصول ہونے والی بولیاں مہنگی ہونے کے باعث مسترد کر دی گئیں۔ یہ صورتحال اسٹریٹجک ذخائر کی اہمیت کو مزید واضح کرتی ہے تاکہ ملک کو فوری ضرورت کے وقت مہنگی درآمدات پر انحصار نہ کرنا پڑے۔
مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کا خطرہ
پاکستان اس وقت اپنی تیل اور ایل این جی کی ضروریات کے لیے بڑی حد تک مشرقِ وسطیٰ پر انحصار کرتا ہے۔ ایران جنگ اور آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے سپلائی چین کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
پاکستان میں اس وقت کوئی مؤثر ’اسٹریٹجک ریزرو سسٹم‘ موجود نہیں ہے، جس کی وجہ سے علاقائی جنگ یا سمندری ناکہ بندی کی صورت میں ملک میں ایندھن کی شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے نئی قانون سازی کی خبریں عالمی منظر نامے پر چھائی ہوئی ہیں۔
معاشی اثرات اور 150 ڈالر فی بیرل کا خدشہ
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی حالیہ تحقیق اس منصوبے کی ضرورت پر مہر ثبت کرتی ہے۔ اگر آبنائے ہرمز 3 ماہ تک بند رہتی ہے تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
ایسی صورتحال میں پاکستان کا ماہانہ درآمدی بل 3.5 سے 4.5 ارب ڈالر تک بڑھ سکتا ہے، جو ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کے لیے تباہ کن ہوگا۔ تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ سپلائی میں تعطل سے ملک میں مہنگائی کی شرح 7 فیصد سے بڑھ کر 17 فیصد تک جا سکتی ہے۔
اسٹریٹجک ذخائر کے قیام سے پاکستان کو کم از کم 30 سے 60 دن کا بیک اپ ملے گا، جو کسی بھی بحران کے دوران معیشت کے پہیے کو رواں رکھنے میں مدد دے گا۔