ایران کے پاکستان میں سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری حالیہ جنگ کے خاتمے کے بعد خطے میں نئے اور طاقتور سیاسی اتحاد جنم لیں گے۔
اسلام آباد کے سینٹر فار انٹرنیشنل اسٹریٹجک اسٹڈیز (سی آئی ایس ایس) کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک خصوصی گول میز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر نے کہا کہ اس تنازع کے نتیجے میں عالمی نظام تبدیل ہو جائے گا، جس سے امریکی اثر و رسوخ میں کمی اور اسرائیل کی مزید تنہائی واضح ہوگی۔
تہران کی خارجہ پالیسی اور پاکستان کی اہمیت
ایرانی سفیر نے تہران کی سوچ کی عکاسی کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران اپنے تمام پڑوسیوں میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کو اولین ترجیح دیتا ہے۔
امیری مقدم نے کہا کہ جنگ کے بعد ایران، پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر پر مشتمل ایک وسیع تر علاقائی اتحاد بننے کے قوی امکانات ہیں۔ ڈاکٹر مقدم نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان روابط کو آسان بنانے اور مشکل حالات میں مستقل حمایت پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے پختہ یقین دلایا کہ ایران اپنی سرزمین کبھی بھی پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔
گوادر اور چابہار کا کردار
سابق سفیر آصف درانی نے کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے ایک اہم نکتے کی جانب اشارہ کیا کہ چابہار اور گوادر بندرگاہوں کو ایک دوسرے کے مدِ مقابل سمجھنے کے بجائے ایک دوسرے کا تکمیلی منصوبہ قرار دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر مرکزی تجارتی بندرگاہ کے طور پر علاقائی رابطے اور اقتصادی انضمام میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
بدلتی ہوئی علاقائی جیو پولیٹکس
گزشتہ چند سالوں میں مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے حالات میں تیزی سے تبدیلی آئی ہے۔ جہاں ایک طرف ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں بہتری آئی ہے، وہیں دوسری طرف اسرائیل اور امریکی گٹھ جوڑ کو نئی مزاحمت کا سامنا ہے۔
پاکستان نے ہمیشہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک ’پل‘ کا کردار ادا کیا ہے۔ حالیہ ’معرکہ حق‘ کے بعد پاکستان کی سفارتی ساکھ میں مزید اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے اب تہران اور دیگر علاقائی طاقتیں اسلام آباد کو ایک مستحکم اور قابلِ بھروسہ شراکت دار کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔
’پانچ ملکی بلاک‘ اور پاکستان کا مستقبل
ماہرینِ خارجہ امور اس اجلاس میں ہونے والی گفتگو کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جانا چاہیے، ایران، ترکیہ، سعودی عرب، مصر اور پاکستان کا اکٹھا ہونا دنیا کے سب سے بڑے اسلامی اور معاشی بلاک کی تشکیل کی طرف اشارہ ہے۔ یہ اتحاد مشرقِ وسطیٰ میں مغربی مداخلت کو کم کرنے میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
سابق سفیر آصف درانی کا یہ کہنا کہ پاکستان کا رویہ امریکا کے ساتھ ’تعلقات‘ اور ایران کے ساتھ ’بھائی چارے‘ پر مبنی ہے، پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی کی نشاندہی کرتا ہے۔
ڈاکٹر نذیر حسین کے مطابق توانائی اور سرحدی تجارت میں ابھی بہت سا کام ہونا باقی ہے۔ اگر گیس پائپ لائن اور سرحدی منڈیاں فعال ہو جاتی ہیں تو دونوں ممالک کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
ایرانی سفیر کا اسرائیل کی تنہائی کا دعویٰ اس بات کی علامت ہے کہ اب مسلم ممالک اپنے دفاع اور خارجہ پالیسی کے لیے واشنگٹن کی طرف دیکھنے کے بجائے مقامی سطح پر اتحاد کر رہے ہیں۔