بھارت نے ایران کے سپریم لیڈر شہید آیت خامنہ ای کی تدفین کی رسومات میں شرکت کے لیے کوئی اعلیٰ سطحی سرکاری وفد ایران نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایران کے دارالحکومت تہران میں سپریم لیڈر شہید آیت خامنہ ای کی تدفین کے حوالے سے رسومات جاری ہیں، جن میں شرکت کے لیے مصر، قطر، پاکستان سمیت متعدد ممالک کے وفود تہران میں موجود ہیں۔
دوسری جانب بھارت کی مودی حکومت نے سپریم لیڈر شہید آیت خامنہ ای کی تدفین کی رسومات میں شرکت کے لیے کوئی اعلیٰ سطحی بھارتی وفد ایران بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔ بھارت کی جانب سے تہران بھیجے جانے والے وفد کی قیادت بہار کے گورنر سید عطا حسنین اور نائب وزیر خارجہ پبتر مارگریٹا کر رہے ہیں۔
دی وائر نے بھی اپنی رپورٹ میں اعلیٰ سطحی وفد نہ بھیجنے کے بھارتی فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا ہے کہ بھارت اسرائیل کے ساتھ اپنی قریبی اسٹریٹجک پارٹنرشپ کا بیک وقت انتظام کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا علی خامنہ ای کے جنازے میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ ایران سے بھارت کی بڑھتی ہوئی دوری کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ نئی دہلی اب بھی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے کثیرالطرفہ اصول پر عمل پیرا ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔