پاکستان کی معروف مارننگ شو میزبان ندا یاسر ایک بار پھر سوشل میڈیا صارفین کی توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، تاہم اس بار وجہ ان کا ایک پروگرام کے دوران خود کو ملینیل نسل کا حصہ قرار دینا ہے۔
ندا یاسر نے حال ہی میں اپنے مارننگ شو میں ملینیلز اور جین زی کے درمیان فرق پر مبنی ایک خصوصی پروگرام پیش کیا، جس میں مختلف نسلوں کے رویوں، ترجیحات اور تجربات پر گفتگو کی گئی۔
پروگرام کے دوران ندا یاسر نے خود کو ملینیل نسل کی نمائندہ قرار دیا اور اس نسل سے جڑے خیالات اور تجربات کا ذکر کیا۔ شو میں شریک اداکارہ عنبر خان نے بھی متعدد مواقع پر ندا یاسر کو ملینیل قرار دیا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے دلچسپ تبصرے سامنے آنے لگے۔
کئی صارفین نے نشاندہی کی کہ ملینیلز سے مراد وہ افراد ہیں جو 1981 سے 1996 کے درمیان پیدا ہوئے ہوں، جبکہ ندا یاسر اور عنبر خان کی عمر اور کیریئر کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کا تعلق زیادہ تر جنریشن ایکس سے بنتا ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک صارف نے لکھا کہ ملینیل نسل کے افراد اس وقت تقریباً 30 سے 45 سال کی عمر کے درمیان ہیں، جبکہ ندا یاسر کی عمر کے پیش نظر انہیں جنریشن ایکس کا حصہ سمجھا جانا چاہیے۔
بعض صارفین نے اس معاملے پر مزاحیہ انداز بھی اپنایا۔ ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ وہ اپنے بچپن میں ندا یاسر کے ڈرامے دیکھتے تھے، اس لیے ان کا اور ندا یاسر کا ایک ہی نسل سے تعلق ہونا ممکن نہیں لگتا۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ ندا یاسر کے کسی بیان یا پروگرام کے کلپ نے سوشل میڈیا پر بحث چھیڑی ہو۔ ماضی میں بھی ان کے مختلف تبصرے اور شو کے موضوعات صارفین کی جانب سے تنقید اور دلچسپ ردعمل کا باعث بنتے رہے ہیں۔
تاہم اس بار نسلوں کی درجہ بندی سے متعلق گفتگو نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے، جہاں صارفین ملینیلز، جین زی اور جنریشن ایکس کی تعریفوں پر اپنے اپنے مؤقف پیش کر رہے ہیں۔