پاکستان نے اسلامک بینکنگ میں اہم مقام حاصل کر لیا، عالمی سطح پر بڑا اعزاز

پاکستان نے اسلامک بینکنگ میں اہم مقام حاصل کر لیا، عالمی سطح پر بڑا اعزاز

سٹیٹ بینک آف پاکستان اور معروف مالیاتی اداروں کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ مشترکہ سروے رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کا اسلامک بینکنگ سسٹم دنیا بھر میں تیزی سے ترقی کرتا ہوا 5 ویں پوزیشن پر پہنچ گیا ہے۔ یہ رپورٹ ملک میں شرعی اصولوں کے مطابق بینکاری کی مقبولیت اور اس پر عوامی اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔

سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اسلامک بینکنگ کے اثاثے دسمبر 2026 تک 19 کھرب روپے جبکہ 2028 تک 25 کھرب روپے کی حیرت انگیز سطح تک پہنچنے کی توقع ہے۔اسی طرح اسلامک بینکنگ ڈپازٹس دسمبر 2026 تک 13 سے 14 کھرب روپے تک بڑھ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:نئے کرنسی نوٹوں کے اجراء سے متعلق گورنر اسٹیٹ بینک کا اہم بیان آگیا

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ مارکیٹ میں اسلامک ڈپازٹس کی شرح 27.8 فیصد سے بڑھ کر 32 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ پاکستانی اسلامک فنانسنگ پورٹ فولیو رواں سال 5 کھرب روپے سے بڑھ کر 7 کھرب روپے سے تجاوز کر جائے گا۔

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے مجموعی بینکاری نظام میں اسلامک بینکنگ کا حصہ جو پہلے 22.9 فیصد تھا، اب بڑھ کر رواں سال 27 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔

ماضی کا موازنہ کیا جائے تو اسلامک بینکنگ کے اثاثے 2021 میں محض 5 کھرب روپے تھے جو تیز رفتار نمو کے ساتھ دسمبر 2025 تک 14.5 کھرب روپے ہو گئے۔ ان اثاثوں میں 2024 کے دوران 23.1 فیصد جبکہ 2025 میں 30.7 فیصد کا شاندار اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اس معاشی نمو کو سہارا دینے کے لیے اسلامک بینکنگ کے برانچ نیٹ ورک میں بھی مسلسل توسیع دیکھی جا رہی ہے۔ توقع ظاہر کی گئی ہے کہ دسمبر 2026 تک ملک بھر میں اسلامک بینکنگ کی برانچز کی تعداد 7300 سے بڑھ کر 7800 تک پہنچ جائے گی۔

مزید پڑھیں:روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ سے پیسے باہر لے جانے میں کوئی ممانعت نہیں، گورنر اسٹیٹ بینک کی وضاحت

دوسری جانب، حکومتی فنانسنگ میں بھی اسلامک بینکنگ کا حصہ مسلسل اضافے کے بعد 14 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ حکومت نے پہلی مرتبہ اپریل میں 200 ارب روپے مالیت کے ہائبرڈ سکوک (اسلامی بانڈز) جاری کیے، جبکہ 2027 تک 3.41 کھرب روپے مالیت کے مزید سکوک جاری کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔

رپورٹ کے مطابق، اسلامک سکوک کی مجموعی مالیت گزشتہ 5 برسوں میں 561 ارب روپے سے بڑھ کر 2.05 کھرب روپے تک پہنچ چکی ہے۔

صفر سے کھربوں روپے کا سفر

پاکستان میں اسلامک بینکنگ کا باقاعدہ آغاز 2000 کے اوائل میں ہوا جب سٹیٹ بینک نے اس کے لیے باقاعدہ پالیسی فریم ورک وضع کیا۔

شریعت کورٹ کا فیصلہ اور حکومتی عزم

وفاقی شریعت کورٹ کے سود کے خلاف تاریخی فیصلے اور حکومت پاکستان کی جانب سے ملکی معیشت کو سود سے پاک کرنے کے عزم نے اس شعبے کو نئی زندگی دی۔

عوامی رجحان اور سرمایہ کاری

روایتی بینکاری کے مقابلے میں پاکستانی عوام کی بڑی اکثریت مذہبی عقائد کی بنا پر سود سے پاک سرمایہ کاری کو ترجیح دیتی ہے۔ سٹیٹ بینک کی سرپرستی اور نجی بینکوں کی جانب سے متعارف کرائی گئی جدید ڈیجیٹل سروسز نے اس نظام کو عام شہری کی پہنچ میں لا کھڑا کیا۔ 2021 میں 5 کھرب سے 2025 تک 14.5 کھرب روپے تک کا سفر اسی عوامی اعتماد کا مظہر ہے۔

پاکستان کی معیشت کے لیے گیم چینجر

پاکستان کے اسلامک بینکنگ سسٹم کا عالمی سطح پر پانچویں نمبر پر آنا ملکی معیشت کے لیے ایک سنگ میل ہے، جس کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے

دستاویزی معیشت اور فنانشل انکلوژن

پاکستان میں ایک بڑی آبادی سود کی وجہ سے بینکوں میں پیسے رکھنے سے گریز کرتی تھی۔ اسلامک بینکنگ کی توسیع سے یہ غیر دستاویزی پیسہ اب بینکنگ چینل کا حصہ بن رہا ہے، جس سے ملک کی مجموعی معیشت مضبوط ہوگی۔

حکومت کے لیے سستا اور شرعی قرضہ

 حکومت کی جانب سے روایتی سود پر مبنی قرضوں کے بجائے ’سکوک بانڈز‘ (جیسے حال ہی میں جاری کردہ 200 ارب روپے کے ہائبرڈ سکوک) کا استعمال ملکی قرضوں کے بوجھ کو منظم کرنے کا ایک بہترین اور محفوظ ذریعہ بن رہا ہے۔

عالمی سرمایہ کاری کی آمد

عالمی سطح پر پانچویں پوزیشن حاصل کرنے کے بعد اب خلیجی ممالک اور دیگر اسلامی مالیاتی اداروں کی جانب سے پاکستان کے سکوک بانڈز اور دیگر منصوبوں میں براہ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کے امکانات بے پناہ بڑھ گئے ہیں۔

Related Articles