اعداد و شمار کے مطابق وفاق کی کل آمدنی 19 ہزار 278 ارب روپے بتائی گئی ہے، جس میں سے صوبوں کو 8 ہزار 206 ارب روپے منتقل کیے گئے جبکہ قرضوں اور سود کی ادائیگی کی مد میں 8 ہزار 207 ارب روپے خرچ ہوئے۔ ان ادائیگیوں کے بعد وفاق کے پاس 2 ہزار 865 ارب روپے باقی رہتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق وفاق کو اسی رقم میں کئی بڑے اخراجات بھی پورے کرنا ہوتے ہیں۔ ان میں دفاعی اخراجات شامل ہیں، جن میں ایٹمی پروگرام، میزائل پروگرام، نیوی، ایئر فورس، بری افواج کے اخراجات اور دہشت گردوں سے جاری جنگ پر آنے والا خرچ شامل ہے، جن کا حجم 2 ہزار 550 ارب روپے بتایا گیا ہے۔
اسی طرح بے نظیر انکم سپورٹ طرز کے وظائف کے لیے 1 ہزار 928 ارب روپے، بجلی سمیت مختلف چیزوں پر سبسڈیز کے لیے 1 ہزار 186 ارب روپے، پنشنز کی ادائیگیوں کے لیے 1 ہزار ارب روپے اور مختلف وفاقی ترقیاتی پروگرامز، خاص طور پر ڈیمز اور موٹرویز کے لیے 1 ہزار ارب روپے درکار ہیں۔
دستیاب معلومات کے مطابق ان اخراجات کے علاوہ وفاقی حکومت چلانے کا خرچ، ریلوے، پی آئی اے، اسٹیل مل اور بجلی کمپنیوں کے خسارے بھی وفاق ہی پورے کرتی ہے، جن کا مجموعی حجم 1 ہزار ارب روپے سے زیادہ بتایا گیا ہے۔
اس حساب سے وفاق کے پاس 2 ہزار 865 ارب روپے بچتے ہیں، جبکہ اس پر مجموعی طور پر 8 ہزار 664 ارب روپے کے اخراجات آتے ہیں۔ یوں 5 ہزار 799 ارب روپے کا اضافی فرق پیدا ہوتا ہے، جسے پورا کرنے کے لیے قرض لینا پڑتا ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اسی صورتحال کے باعث اٹھارویں ترمیم سے پہلے ملک کا کل قرضہ 10 ہزار ارب روپے تھا تاہم اس ترمیم کے بعد 15 سال میں یہ قرضہ 1 لاکھ ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق کہ اگر اس عمل کو نہ روکا گیا تو قرضہ اور اس کا سود اتنا بڑھ جائے گا کہ پوری آمدن ہی قرضوں کے سود میں چلی جائے گی، جس کے بعد نہ صوبوں کو کچھ ملے گا اور نہ وفاق کے پاس کچھ بچے گا۔
معاشی تجزیہ کاروں نے اس مسئلے کے حل کے لیے دو تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ پہلی تجویز یہ ہے کہ وفاق پہلے کی طرح سارا بجٹ خود چلائے اور صوبوں میں پیسے بانٹنا بند کرے، کیونکہ مؤقف کے مطابق جب سے یہ رقوم صوبوں کو دی جا رہی ہیں، وہ عوام تک پہنچنے کے بجائے صوبائی حکومتوں کی کرپشن کی نذر ہو رہی ہیں۔
دوسری تجویز یہ دی گئی ہے کہ یہ قرضے اسلام آباد کے لیے نہیں لیے گئے، نہ دفاع صرف اسلام آباد کا ہو رہا ہے، نہ پنشن اور وظائف لینے والے کروڑوں لوگ اسلام آباد میں رہتے ہیں اور نہ ہی سینکڑوں ارب روپے کی بجلی چوریاں اسلام آباد میں ہوتی ہیں۔ اس لیے جس صوبے کا جتنا حصہ ہو، اسی حساب سے اسے بھی ان اخراجات کا بوجھ اٹھانا چاہیے، ورنہ ملک کو تباہی سے بچانا مشکل ہو جائے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ترمیم سے پہلے صوبے ایک دوسرے کے زیادہ قریب تھے اور وفاق زیادہ مضبوط تھا، تاہم بجٹ کی تقسیم کے بعد وفاق مضبوط ہونے کے بجائے کمزور ہوا، صوبے تباہ ہوئے اور ایک دوسرے سے دور بھی ہوگئے۔