حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا ہے جس کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں4 روپے کمی جبکہ ڈیزل کی قیمت میں2 روپے کمی کی گئی ہے ۔پٹرولیم ڈویژن کے مطابق حکومت نے عوام کو ریلیف دیتے ہوئے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا فیصلہ کیا ہے۔
اعلان کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 4 روپے جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 2 روپے کمی کی گئی ہے۔ نظرثانی کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 373 روپے 78 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جبکہ ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 78 پیسے فی لیٹر ہو گی۔
حکام کے مطابق یہ فیصلہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مجموعی معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ عوام پر مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے مختلف سطحوں پر اقدامات جاری ہیں۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 2 روپے کمی کی گئی ہے، جس کے بعد نئی قیمت 378 روپے 78 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ نئی قیمتوں کا اطلاق جمعہ کی رات 12 بجے سے ہوگا حکومت کے مطابق یہ فیصلہ موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی عالمی قیمتوں میں ردوبدل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، تاکہ عوام پر مہنگائی کے دباؤ کو کسی حد تک کم کیا جا سکے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی
گزشتہ چند دنوں کے دوران عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس کی وجہ سے درآمدی تیل کی لاگت میں بھی کمی کا رجحان پیدا ہوا ہے۔ اس عالمی کمی کا براہِ راست اثر مقامی مارکیٹ پر پڑا ہے اور اسی بنیاد پر حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فیصلہ کیا ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدے کی خبریں
توانائی مارکیٹ میں مزید بہتری کی ایک بڑی وجہ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ سفارتی پیش رفت کو بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ اگر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی آتی ہے یا کسی معاہدے کی جانب پیش رفت ہوتی ہے تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی بڑھنے کا امکان ہے، جس سے قیمتوں میں مزید استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔
مقامی سطح پر ریلیف کا اثر
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کے مطابق صارفین کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی پالیسی کا حصہ ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی مثبت اثر پڑنے کی توقع ہے۔
آئندہ کے امکانات
اگر عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں اسی طرح مستحکم یا کم رہیں تو آئندہ مہینوں میں مزید ریلیف بھی ممکن ہے، تاہم اس کا انحصار عالمی سیاسی صورتحال اور توانائی مارکیٹ کے رجحانات پر ہوگا۔