پنجاب حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی تیاری مکمل کر لی ہے اور ذرائع کے مطابق سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے وفاقی حکومت کی طرز پر تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی تجویز بجٹ کا اہم حصہ ہے۔
اس پیش رفت کے بعد صوبائی ملازمین میں پائی جانے والی بے یقینی بڑی حد تک ختم ہو گئی ہے کیونکہ ماضی میں بعض اوقات پنجاب کے ملازمین کو وفاقی حکومت کے برابر ریلیف نہیں مل سکا تھا۔
ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت وفاق کی جانب سے اعلان کردہ تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کے مطابق ہی ریلیف پیکج دینے کا فیصلہ کیا ہے جس سے لاکھوں سرکاری ملازمین اور ریٹائرڈ ملازمین مستفید ہوں گے۔ بجٹ منظوری کے بعد اس حوالے سے حتمی اعلان کیا جائے گا۔
دوسری جانب پنجاب کے بجٹ 2026-27 کو کل 16 جون کو پنجاب اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ وزارت خزانہ پنجاب کے ذرائع کے مطابق بجٹ کے تمام اعداد و شمار کو حتمی شکل دے دی گئی ہے جبکہ محکمہ خزانہ نے اسمبلی اجلاس بلانے کے لیے محکمہ قانون کو سمری بھی ارسال کر دی ہے۔ گورنر پنجاب نوٹیفکیشن جاری کر کے اسمبلی اجلاس طلب کریں گے۔
ذرائع کے مطابق بجٹ پیش کیے جانے سے قبل 16 جون کی صبح 11 بجے پنجاب کابینہ کا خصوصی اجلاس منعقد ہوگا جس میں بجٹ دستاویزات کی منظوری دی جائے گی۔
بجٹ میں سماجی شعبے کو خصوصی ترجیح دی گئی ہے اور تعلیم، صحت، سماجی بہبود اور عوامی فلاح کے منصوبوں کے لیے نمایاں فنڈز مختص کیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں عوام پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مہنگائی کے دباؤ کا شکار شہریوں کو مزید بوجھ سے بچایا جا سکے۔
پنجاب حکومت کا مؤقف ہے کہ بجٹ میں عوامی ریلیف سماجی شعبوں کی بہتری اور ترقیاتی سرگرمیوں کے تسلسل کو ترجیح دی جائے گی، جبکہ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے مجوزہ ریلیف پیکج بجٹ کی نمایاں خصوصیات میں شامل ہوگا۔