سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے سے متعلق وزیراعلیٰ سندھ کا اہم بیان

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے سے متعلق وزیراعلیٰ سندھ کا اہم بیان

وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کو اس وقت پیسوں کی شدید قلت کا سامنا ہے اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے حوالے سے فیصلہ دستیاب مالی وسائل کو دیکھ کر کیا جائے گا کہ کتنا اضافہ ممکن ہے۔

کراچی میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ سندھ نے صوبائی حکومت کی گزشتہ چھ ماہ کی کارکردگی، وفاق کے ساتھ تصفیہ طلب معاملات اور مجموعی سیاسی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے ماضی کے وفاقی وعدوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کراچی اور سندھ کے عوام اب اپنے حقوق سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔

مراد علی شاہ نے اپنی حکومت کی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے بتایا کہ شدید مالی مشکلات کے باوجود گزشتہ چھ ماہ کے دوران صوبائی حکومت نے ریکارڈ وقت میں چھ بڑے میگا پروجیکٹس مکمل کیے ہیں۔ ان کے مطابق یہ تمام منصوبے پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے عالمی مالیاتی اداروں کے تعاون اور اشتراک سے مکمل کیے۔

وفاقی وعدوں پر بات کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ “ایک صاحب یہاں آ کر 1100 ارب روپے کا وعدہ کر کے گئے تھے، لیکن عملی طور پر انہوں نے 11 روپے بھی نہیں دیے”۔ انہوں نے مزید بتایا کہ موجودہ وفاقی بجٹ میں سندھ کے اہم منصوبوں کے لیے 64 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی کابینہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی

صوبے کے بڑے سفری منصوبے پر بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے اعلان کیا کہ طویل عرصے سے زیرِ التوا حیدرآباد-سکھر موٹروے کا تعمیراتی کام آئندہ سال جنوری میں شروع کیا جائے گا، اور یہ منصوبہ ساڑھے تین سال میں مکمل ہوگا۔

پانی کے بحران کا ذکر کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ سندھ نے انکشاف کیا کہ اس وقت سندھ کو اپنے حصے کے 41 فیصد پانی کی کمی کا سامنا ہے، جس پر انہوں نے وفاقی حکومت کو باقاعدہ احتجاجی خط لکھ کر صوبے کا مؤقف پیش کیا ہے۔

مالی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ سندھ حکومت اس وقت شدید مالی دباؤ میں ہے، اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا فیصلہ بجٹ کی صورتحال کو دیکھ کر کیا جائے گا۔

اپوزیشن جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پر تبصرہ کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ ایم کیو ایم کے اندرونی اختلافات سے ان کی صحت یا کراچی کے شہریوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ انہوں نے بلدیاتی انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “اگر اتنی مقبولیت تھی تو الیکشن کا بائیکاٹ نہ کرتے اور میدان میں آ کر مقابلہ کرتے”۔

یہ بھی پڑھیں: امن معاہدے میں اہم کردار پر ایران کا پاکستان سے اظہار تشکر

انہوں نے مصطفیٰ کمال کے بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے کیا کہا ہے، اور وہ کسی کے گھر کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتے۔

اپنی وزارتِ اعلیٰ سے متعلق افواہوں پر ردعمل دیتے ہوئے مراد علی شاہ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ میڈیا کو ہمیشہ “مرچ مصالحہ” چاہیے ہوتا ہے، اور انہیں عہدے سے ہٹانے کی باتیں گزشتہ دس سال سے جاری ہیں، تاہم وہ اپنی توجہ کام پر مرکوز رکھے ہوئے ہیں۔

Related Articles