آزاد کشمیر، راولاکوٹ احتجاج کی جعلی ویڈیوز پھیلانے والا ’پی ٹی آئی‘ کا نیٹ ورک پکڑا گیا، رینجرز کی فائرنگ جعلی نکلی

آزاد کشمیر، راولاکوٹ احتجاج کی جعلی ویڈیوز پھیلانے والا ’پی ٹی آئی‘ کا نیٹ ورک پکڑا گیا، رینجرز کی فائرنگ جعلی نکلی

پاکستان کے معروف ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور فیکٹ چیکنگ ادارے ’آزاد فیکٹ چیک‘ نے سوشل میڈیا پر سیکیورٹی اداروں کے خلاف جاری ایک منظم مہم کو بے نقاب کرتے ہوئے نیلم ویلی (آزاد کشمیر) میں رینجرز کی فائرنگ سے متعلق تمام دعوؤں کو یکسر جھوٹا اور بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔

ادارے کی جانب سے جاری کردہ فیکٹ چیک رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریکِ انصاف سے منسلک ایک مخصوص ’ایکس‘ (سابقہ ٹویٹر) اکاؤنٹ ہینڈل کے ذریعے یہ جعلی خبر پھیلائی گئی تھی کہ پاکستان رینجرز نے نیلم ویلی میں مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کی ہے۔

’آزاد فیکٹ چیک‘ نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ وائرل ہونے والی پوسٹس میں فائرنگ، ہنگامہ آرائی اور جانی نقصان کے جو الزامات لگائے گئے، ان کا زمینی حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ نیلم ویلی میں اس نوعیت کا کوئی احتجاجی مظاہرہ سرے سے ہوا ہی نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:جعلی ویڈیوز کی نشاندہی اب آسان، یوٹیوب نے عام صارفین کو اختیار دے دیا

رپورٹ کے مطابق مخصوص سیاسی مائنڈ سیٹ کے حامل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ایکس ہینڈل نے ملک کے حساس سیکیورٹی اداروں کو بدنام کرنے اور آزاد کشمیر میں جاری کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے دھرنوں کی آڑ میں مزید انتشار پھیلانے کے لیے یہ غیر تصدیق شدہ اور خود ساختہ کہانی گھڑی۔

مقامی انتظامیہ اور نیلم ویلی کے رہائشیوں نے بھی تصدیق کی ہے کہ پورے علاقے میں حالات مکمل طور پر پرامن اور معمول کے مطابق ہیں اور فائرنگ کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

فیکٹ چیکنگ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ آزاد کشمیر کے مخصوص علاقوں (بالخصوص راولاکوٹ) میں جاری دھرنوں کو بنیاد بنا کر سوشل میڈیا پر باقاعدہ ’بیانیوں کی جنگ چھیڑی گئی ہے، جس میں عوام کو اشتعال دلانے کے لیے مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کردہ جعلی ویڈیوز اور پوسٹس کا سہارا لیا جا رہا ہے۔

ادارہ اس طرح کی جعلی مہموں کی سخت نگرانی کر رہا ہے اور 13 جون 2026 تک کی تصدیق شدہ معلومات کے مطابق صارفین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ایسی کسی بھی غیر تصدیق شدہ پوسٹ کو شیئر کرنے سے گریز کریں جو تشدد کو ہوا دینے یا عوام کو گمراہ کرنے کا باعث بن سکتی ہو۔

مزید پڑھیں:کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا راولا کوٹ دریک کے مقام پر جاری دھرنا ختم کر دیا گیا

آزاد جموں و کشمیر میں گزشتہ کچھ عرصے سے بجلی کے بلوں، گندم کی سبسڈی اور دیگر انتظامی مسائل پر کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی’ کے بینر تلے احتجاج لہر دیکھی گئی ہے۔

اگرچہ حکومت اور کمیٹی کے درمیان مذاکرات کے کئی ادوار ہوئے اور بعض مقامات پر معاملات حل بھی ہوئے، تاہم راولاکوٹ اور پونچھ ڈویژن کے چند دیگر علاقوں میں اب بھی ڈیڈ لاک برقرار ہے اور دھرنے جاری ہیں۔

ان اندرونی سیاسی و عوامی احتجاجی تحریکوں کو ہمیشہ ریاست مخالف عناصر یا مخصوص سیاسی گروپس انٹرنیٹ پر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

آج کے ڈیجیٹل دور میں ‘انفارمیشن وارفیئر’ (اطلاعاتی جنگ) ایک خطرناک ہتھیار بن چکی ہے۔ جب بھی کسی حساس علاقے (جیسے آزاد کشمیر یا بلوچستان) میں مقامی سطح پر کوئی کشیدگی ہوتی ہے، تو سوشل میڈیا پر ڈیپ فیک ویڈیوز، پرانی تصاویر پر نئے کیپشنز اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ گمراہ کن مواد کی بھرمار کر دی جاتی ہے۔

اس کا مقصد مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیلانا اور سیکیورٹی فورسز (جیسے رینجرز یا ایف سی) کے خلاف نفرت پیدا کرنا ہوتا ہے۔ نیلم ویلی اسٹریٹجک لحاظ سے لائن آف کنٹرول کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے انتہائی حساس ہے، اس لیے وہاں سیکیورٹی اداروں کی فائرنگ کی افواہ پھیلانا پاکستان کی داخلی سلامتی کے لیے شدید خطرہ بن سکتا ہے۔

Related Articles