سیاست اپنی اپنی، وژن اپنا اپنا لیکن پاکستان ہے تو ہم ہیں ۔وزیر اعظم کا اسمبلی میں تاریخی خطاب

سیاست اپنی اپنی، وژن اپنا اپنا لیکن پاکستان ہے تو ہم ہیں ۔وزیر اعظم کا اسمبلی میں تاریخی خطاب

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن کو ایک بار پھر میثاقِ معیشت اور میثاقِ جمہوریت کے لیے مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے مفاد میں تمام سیاسی قوتوں کو ایک میز پر بیٹھنا ہوگا۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ انہوں نے متعدد بار اپوزیشن کو بات چیت کی دعوت دی ہے اور آج بھی یہی مؤقف ہے کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن ملک کی بقا اور استحکام سب سے مقدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست اپنی اپنی، وژن اپنا اپنا لیکن پاکستان ہے تو ہم ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ یہ ایوان ایک گھر کی مانند ہے اور اس میں اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے تاہم قومی مفاد پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے اپوزیشن لیڈر کی تقریر کو سراہتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف کے باوجود بات چیت کا راستہ کھلا رہنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:بجٹ میں مختص 838 ارب کن غریب فیملیوں میں اور کیسے تقسیم ہوں گے؟

وزیرِ اعظم نے سیکیورٹی صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ تین روز قبل 22 جوانوں نے دہشت گردی کے خلاف لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے روزانہ اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ملک کو محفوظ بنا رہے ہیں ان قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ صوبوں کے وسائل پر ان کے حقوق سے کوئی اختلاف نہیں اور ریکوڈک معاہدہ بلوچستان کے عوام کی مشاورت سے طے پایا۔ ان کا کہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ میں 2010 میں بلوچستان کا حصہ 100 فیصد بڑھایا گیا جو صوبے کے لیے ایک اہم پیش رفت تھی۔

وزیرِ اعظم نے بلوچستان کی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ صوبہ پاکستان کا خوبصورت حصہ ہے جہاں باصلاحیت اور محنتی عوام رہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں کسانوں کو 75 ارب روپے کے سولر پینلز فراہم کیے گئے ہیں جبکہ گوادر سے چمن تک جدید معیار کی ہائی وے پر کام جاری ہے۔

 وزیرِ اعظم کا یہ خطاب ایک طرف سیاسی مکالمے کی دعوت جبکہ دوسری طرف قومی سلامتی اور ترقیاتی منصوبوں پر حکومت کے مؤقف کو مضبوط بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

editor

Related Articles