حکومتِ پاکستان اور آزاد جموں کشمیر انتظامیہ نے حال ہی میں انسدادِ دہشتگردی ایکٹ 2014 کے تحت فورتھ شیڈول میں شامل کی جانے والی کالعدم ‘جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی’ کے خلاف گھیرا مزید تنگ کرتے ہوئے ایک بڑے اور فیصلہ کن کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے۔
وفاقی حکومت اور ریاستی اداروں نے مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت کالعدم تنظیم کے کلیدی رہنماؤں، باقاعدہ فنڈنگ کرنے والے چندہ دہندگان اور مقامی و بین الاقوامی سہولت کاروں کے خلاف سخت ترین قانونی و معاشی تادیبی کارروائیوں کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا راولا کوٹ دریک کے مقام پر جاری دھرنا ختم کر دیا گیا
باوثوق ذرائع کے مطابق وفاقی وزارتِ داخلہ اور آزاد کشمیر کے محکمہ داخلہ کی اعلیٰ سطح کی مشاورت کے بعد یہ طے پایا ہے کہ کالعدم تنظیم سے وابستگی، مالی معاونت یا کسی بھی قسم کی سہولت کاری کی بنیاد پر ملوث افراد کے قومی شناختی کارڈ ، پاسپورٹ اور تمام نجی و کاروباری بینک اکاؤنٹس کو فوری طور پر بلاک اور منجمد کر دیا جائے گا۔
اس سخت ترین فیصلے کا مقصد تنظیم کے مالیاتی ذرائع کو مکمل طور پر مفلوج کرنا اور ان کی نقل و حرکت پر سخت ترین ریاستی کنٹرول قائم کرنا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ اس کارروائی کے دائرہ کار کو آزاد کشمیر کی حدود سے بڑھا کر پورے پاکستان تک پھیلا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے پرتشدد احتجاج میں شریک افراد کی نگرانی، فہرستیں مرتب کی جانے لگیں

