امریکی جریدے ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان ایک اہم معاہدے کے متن پر اتفاق ہو گیا ہے جس کے تحت 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز کی فوری اور ٹول فری بحالی اور ایران کو پابندیوں میں نرمی فراہم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ معاہدہ باضابطہ طور پر دستخط ہونے کے بعد ’’ اسلام آباد معاہدہ‘‘ کے نام سے جانا جائے گا جو پاکستان اور قطر کی ثالثی کے کردار کا اعتراف ہے۔ دونوں ممالک کی کوششوں سے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم پیش رفت ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق معاہدے کا نام ’’اسلام آباد معاہدہ‘‘ پاکستان کے درالحکومت اسلام آباد کی نسبت سے رکھا گیا ہے جہاں اہم ثالثی کوششیں کی گئیں۔ پاکستان کی بطور ثالث شمولیت کو علاقائی سطح پر اہمیت دی گئی ہے جبکہ قطر کے کردار کو بھی خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان رابطہ کار کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ معاہدے کے متن پر اتفاق ہو چکا ہے تاہم ابھی اس پر دستخط نہیں ہوئے اور واشنگٹن اور تہران کی اعلیٰ قیادت کی حتمی منظوری باقی ہے۔ جنیوا میں دستخطی تقریب کی تیاری بھی جاری ہے جس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی شرکت کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ معاہدے کے مسودے کے مطابق تین اہم نکات شامل ہیں۔ پہلا، موجودہ جنگ بندی میں 60 روز کی توسیع تاکہ جوہری مذاکرات کے لیے مزید وقت فراہم کیا جا سکے۔ دوسرا، آبنائے ہرمز کی فوری بحالی بغیر کسی ٹول یا ٹرانزٹ فیس کے، جو عالمی تیل کی ترسیل کے اہم راستے کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ تیسرا، ایران پر پابندیوں میں نرمی، تاہم یہ اقدام ایران کی جانب سے معاہدے پر مکمل عملدرآمد سے مشروط ہوگا۔