دنیا پہلے ہی معاشی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہی ہے، لیکن اب امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی معیشت کے لیے نئے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔
ورلڈ بینک نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں صورتحال مزید بگڑتی ہے تو نہ صرف عالمی اقتصادی ترقی متاثر ہو سکتی ہے بلکہ مہنگائی اور تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔
ورلڈ بینک کی تازہ رپورٹ کے مطابق رواں سال عالمی معیشت کی رفتار کورونا وبا کے بعد اپنی کم ترین سطح پر رہنے کا امکان ہے، جبکہ کئی ممالک پہلے ہی سست روی کے آثار محسوس کر رہے ہیں۔
عالمی ترقی کی شرح میں کمی
ورلڈ بینک نے عالمی اقتصادی ترقی کے تخمینے میں کمی کرتے ہوئے اسے 2.9 فیصد سے گھٹا کر 2.5 فیصد کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، مہنگائی کا مسلسل دباؤ اور قرض لینے کی بلند لاگت عالمی معیشت کے لیے بڑے چیلنج بن چکے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کی بڑی معیشتوں میں سست روی کے اثرات ترقی پذیر ممالک پر زیادہ پڑ سکتے ہیں، جہاں پہلے ہی مالی دباؤ اور ترقیاتی مسائل موجود ہیں۔
تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی اور سپلائی چین مزید متاثر ہوئی تو عالمی اقتصادی صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
ورلڈ بینک کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں 36 فیصد تک اضافے کا امکان موجود ہے، جس کے بعد اس کی اوسط قیمت 94 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے نقل و حمل، صنعت اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر براہ راست اثر پڑ سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی معیشت کے لیے کتنا اہم؟
رپورٹ میں خاص طور پر آبنائے ہرمز کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے ، ورلڈ بینک کے مطابق اگر کسی بھی وجہ سے یہ اہم بحری راستہ بند ہوتا ہے تو عالمی مہنگائی کی شرح 4 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ گزشتہ سال یہ شرح 3.3 فیصد رہی تھی۔
ماہرین کے مطابق دنیا کی تیل سپلائی کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے ، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی منڈیوں میں فوری بے چینی پیدا کر سکتی ہے۔
ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق جنوری کے بعد دنیا کے تقریباً دو تہائی ممالک کے لیے اقتصادی ترقی کی پیش گوئیوں میں کمی کر دی گئی ہے، اس صورتحال نے سرمایہ کاروں، کاروباری اداروں اور حکومتوں کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے، کیونکہ عالمی معاشی بحالی کی رفتار پہلے ہی توقعات سے کم رہی ہے۔
متاثرہ ممالک کے لیے امدادی پیکیج
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعات سے متاثر ہونے والے ترقی پذیر ممالک کی معاونت کے لیے 60 ارب ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔ ضرورت پڑنے پر اس امدادی پیکیج کو بڑھا کر 100 ارب ڈالر تک کیا جا سکتا ہے۔
ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ ممکنہ معاشی جھٹکوں سے نمٹنے اور متاثرہ معیشتوں کو سہارا دینے کے لیے عالمی تعاون ناگزیر ہو چکا ہے۔
مستقبل میں کیا ہوسکتا ہے ؟
معاشی ماہرین کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی نہ آئی تو عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں، مہنگائی اور قرضوں کی لاگت مزید بڑھنے کا خدشہ موجود ہے۔