26 ہزار نوری سال دورناسا کی نئی دریافت نے سائنسدانوں کا تجسس بڑھا دیا

26 ہزار نوری سال دورناسا کی نئی دریافت نے سائنسدانوں کا تجسس بڑھا دیا

امریکی خلائی ادارے ناسا کی چندرا ایکس رے آبزرویٹری نے ہماری کہکشاں ملکی وے کے مرکزی حصے میں ایک ایسی ساخت دریافت کی ہے جسے ممکنہ طور پر ایک نئے سپرنووا کے باقیات قرار دیا جا رہا ہے۔

سپرنووا باقیات دراصل ان عظیم ستاروں کے پھیلتے ہوئے ملبے پر مشتمل ہوتی ہیں جو اپنے زندگی کے آخری مرحلے میں زبردست دھماکے سے پھٹ جاتے ہیں۔ یہ دھماکے فولاد، آکسیجن اور سلیکون جیسے اہم عناصر خلا میں پھیلاتے ہیں، جو بعد میں نئے ستاروں، سیاروں اور ممکنہ طور پر زندگی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :ناسا کا الرٹ ,طاقتور شمسی طوفان زمین کے قریب پہنچ گیا

ماہرین کے مطابق اگر اس دریافت کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ ملکی وے کے مرکز میں موجود دیوقامت بلیک ہول کے قریب ترین معلوم سپرنووا باقیات میں شامل ہو سکتی ہے۔

کہکشاں کا مرکزی خطہ کائنات کے پراسرار ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں بے شمار دیوقامت ستارے، طاقتور مقناطیسی میدان اور گیس کے گھنے بادل موجود ہیں جو انتہائی تیز رفتاری سے گلیکٹک سینٹر کے گرد گردش کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :مصنوعی ذہانت سے نوکریاں خطرہ میں، ماہرین نے خبردار کر دیا

اس خطے کی نئی تفصیلی تصویر مختلف خلائی اور زمینی مشنز کے ڈیٹا کو یکجا کر کے تیار کی گئی ہے۔ اس میں چندرا اور یورپی خلائی ایجنسی کے ایکس ایم ایم نیوٹن مشن سے حاصل ہونے والی ایکس رے معلومات، میرکیٹ ریڈیو دوربین کا ڈیٹا اور پین اسٹارز کی آپٹیکل تصاویر شامل ہیں۔

تحقیق کے مطابق یہ ممکنہ سپرنووا باقیات زمین سے تقریباً 26 ہزار نوری سال کے فاصلے پر واقع ہیں، جو انہیں ہماری کہکشاں کے انتہائی اہم اور دلچسپ فلکیاتی مشاہدات میں شامل کرتی ہیں۔

editor

Related Articles