بالی ووڈ اداکارہ اور کاروباری شخصیت پریتی زنٹا کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کیے گئے ڈیپ فیک مواد کے خلاف اہم قانونی کامیابی حاصل ہو گئی ہے۔ ممبئی ہائیکورٹ نے انہیں مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف قانونی کارروائی کی اجازت دے دی ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ممبئی ہائیکورٹ کے جسٹس ابھے آہوجا نے پریتی زنٹا کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں گوگل، میٹا، ایکس اور دیگر متعلقہ پلیٹ فارمز کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کی اجازت دے دی۔
عدالتی اجازت کے بعد اداکارہ اب اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز، تبدیل شدہ تصاویر، میمز، چیٹ بوٹ شخصیات اور دیگر ایسے آن لائن مواد کے خلاف قانونی کارروائی کر سکیں گی جن میں ان کی شناخت یا شخصیت کو مبینہ طور پر بغیر اجازت استعمال کیا گیا۔
پریتی زنٹا کا مؤقف ہے کہ ان کی اجازت کے بغیر تیار اور پھیلایا جانے والا یہ مواد ان کے شخصیت کے حقوق، کاپی رائٹ اور اخلاقی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ان کے مطابق اس قسم کا مواد نہ صرف ان کی ساکھ متاثر کر رہا ہے بلکہ عوامی تشخص کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اداکارہ کے وکیل روہن کدم نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ مختلف آن لائن پلیٹ فارمز پر مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایسا مواد تخلیق اور شائع کیا گیا جس میں پریتی زنٹا کی شناخت اور شخصیت کو استعمال کیا گیا۔
وکیل کے مطابق یہ مواد ان کے قانونی حقوق اور شہرت دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اگرچہ معاملے کا ایک حصہ ممبئی ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، تاہم بعض متعلقہ کمپنیاں ممبئی سے باہر قائم ہیں جبکہ متنازع مواد دنیا بھر میں آن لائن دستیاب ہے۔
ماہرین کے مطابق پریتی زنٹا کا یہ مقدمہ فلمی شخصیات کی جانب سے ڈیپ فیک ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے مبینہ غلط استعمال کے خلاف بڑھتے ہوئے قانونی اقدامات میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔