ٹیلی کام کمپنیوں کے جرمانے کا معاملہ، وفاقی وزیرشیزا فاطمہ نے وضاحت کر دی

ٹیلی کام کمپنیوں کے جرمانے کا معاملہ، وفاقی وزیرشیزا فاطمہ  نے وضاحت کر دی

وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شیزہ فاطمہ نے ٹیلی کام کمپنیوں سے متعلق جرمانے کے معاملے پر وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جرمانہ کسی فرد یا ادارے پر بلاجواز یا زبردستی عائد نہیں کیا جاتا، بلکہ اس کا اطلاق صرف اس وقت ہوتا ہے جب کسی قانونی معاہدے کی خلاف ورزی کی جائے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ قانون کا مقصد کاروباری معاہدوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ جب کوئی کمپنی باہمیہ رضامندی اور قانونی معاہدے کے تحت بھاری سرمایہ کاری کر کے ٹاورز یا دیگر انفراسٹرکچر قائم کرتی ہے تو معاہدے کی مقررہ مدت کے دوران اسے بلاوجہ رکاوٹوں کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔

شزہ فاطمہ کے مطابق اگر کوئی فریق طے شدہ شرائط و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اچانک معاہدہ ختم کرنے یا کمپنی کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے تو ایسی صورتحال میں جرمانے کی شق کا مقصد غیر قانونی عمل کی روک تھام اور معاہدے کی پاسداری کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:حکومت نے بجلی بلوں پر بڑی پیچیدگی ختم کر دی

انہوں نے واضح کیا کہ اس اقدام کا مقصد کسی کی ذاتی ملکیت یا گھر پر قبضہ کرنا ہرگز نہیں، بلکہ صرف کاروباری معاہدوں اور سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے قانونی طریقہ کار کو مضبوط بنانا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ جدید دور میں انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے سرمایہ کاری کا تحفظ انتہائی ضروری ہے۔ سرمایہ کار ادارے طویل مدتی منصوبوں پر کام کرتے ہیں، اس لیے انہیں معاہدوں کے مطابق کام کرنے کا محفوظ ماحول فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر ملک کی ڈیجیٹل ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، اور حکومت کی کوشش ہے کہ ایسے قوانین اور پالیسیز بنائی جائیں جن سے عوامی مفاد کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری کا اعتماد بھی برقرار رہے۔

editor

Related Articles