سائنس دانوں کا طویل عرصے سے ماننا تھا کہ تقریباً 5 ارب سال بعد سورج اپنے مرکز میں موجود ہائیڈروجن ایندھن ختم ہونے کے بعد ایک دیو ہیکل سرخ ستارے (ریڈ جائنٹ) میں تبدیل ہو جائے گا، جس کے نتیجے میں وہ پھیل کر اپنے قریب موجود سیاروں کو نگل لے گا۔
ماضی کی بیشتر تحقیقات کے مطابق زمین بھی ان سیاروں میں شامل تھی جو سورج کے پھیلاؤ کا شکار ہو کر تباہ ہو جائیں گے۔ تاہم ایک نئی سائنسی تحقیق نے اس تصور پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین کا مستقبل شاید اتنا واضح نہیں جتنا پہلے سمجھا جاتا تھا۔
تحقیق کے مطابق زمین کی قسمت کا فیصلہ دو اہم عوامل کے درمیان ہونے والی کشمکش پر منحصر ہو سکتا ہے۔ ایک طرف سورج وقت کے ساتھ اپنی کمیت (ماس) کھوتا جائے گا، جبکہ دوسری جانب سورج اور زمین کے درمیان کششی اثرات بھی اہم کردار ادا کریں گے۔
سائنس دان اب اس امکان کا جائزہ لے رہے ہیں کہ سورج کی کمیت میں کمی زمین کے مدار کو مزید دور دھکیل سکتی ہے، جس سے زمین سورج کے پھیلتے ہوئے بیرونی حصے سے بچ جائے۔ تاہم اگر کششی قوتیں زیادہ اثرانداز ہوئیں تو زمین سورج کی جانب کھنچ سکتی ہے اور بالآخر اس میں جذب ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس عمل میں اربوں سال باقی ہیں، لیکن نئی تحقیق نے زمین کے دور دراز مستقبل کے بارے میں سائنس دانوں کے اندازوں کو ایک بار پھر بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ت